صحیح مسلم حدیث ۲۲۰۵ - اپنے بھائی کے لیے مغفرت مانگو
نجاشی کی حدیث: اپنے بھائی کے لیے مغفرت مانگنا
صحیح مسلم : ۲۲۰۵
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۲۰۵
وحَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ جَدِّي ، قَالَ : حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، وأبي سلمة بن عبد الرحمن أنهما حدثاه ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّهُ قَالَ : " نَعَى لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّجَاشِيَ صَاحِبَ الْحَبَشَةِ فِي الْيَوْمِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ ، فَقَالَ : اسْتَغْفِرُوا لِأَخِيكُمْ " قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : وَحَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، حَدَّثَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " صَفَّ بِهِمْ بِالْمُصَلَّى ، فَصَلَّى فَكَبَّرَ عَلَيْهِ أَرْبَعَ تَكْبِيرَاتٍ " ،
ابوہریرہ روایت:
خبر دی ہم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حبشہ کے بادشاہ نجاشی کی موت کی جس دن کہ انہوں نے انتقال کیا اور فرمایا: ”اپنے بھائی کے لئے مغفرت مانگو۔“ (یہ ہمدردی ہے)۔ ابن شہاب نے کہا اور روایت کی مجھ سے سعید بن مسّیب نے اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ان سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم کے ساتھ صف باندھی عیدگاہ میں اور نماز پڑھی اور چار تکبیریں کہیں۔
صحیح مسلم حدیث ۲۲۰۵ کا خلاصہ
اس حدیث میں نجاشی، جو حبشہ کے بادشاہ تھے، ان کی وفات کی خبر بیان ہوئی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی دن صحابہ کو خبر دی اور فرمایا: اپنے بھائی کے لیے مغفرت مانگو۔ پھر روایت میں آتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کے ساتھ صف باندھی، عیدگاہ میں نماز پڑھی اور چار تکبیریں کہیں۔ اس حدیث کا اصل موضوع مغفرت کی دعا، مسلمان بھائی کا حق، اور نماز جنازہ ہے۔ یہاں لفظ بھائی بہت نرم اور محبت بھرا ہے۔ اس سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ وفات کی خبر صرف اطلاع نہیں، بلکہ دعا کا موقع بھی ہے۔ حدیث ہمیں یہی سکھاتی ہے کہ مسلمان کی وفات پر اس کے لیے بخشش کی دعا کی جائے اور نماز جنازہ کا اہتمام کیا جائے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- وفات پانے والے مسلمان کے لیے مغفرت کی دعا کرنی چاہیے۔
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نجاشی کو اپنے بھائی کے لفظ سے یاد کیا۔
- نماز جنازہ کے لیے صف باندھنے کا ذکر اس روایت میں آیا ہے۔
- اس نماز میں چار تکبیریں کہی گئیں۔
