صحیح مسلم حدیث ۲۲۱ - مسلمان کو گالی دینا فسق ہے
مسلمان کو گالی دینا: زبان کی حفاظت اور مسلم اخوت
صحیح مسلم : ۲۲۱
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۲۱
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارِ بْنِ الرَّيَّانِ ، وَعَوْنُ بْنُ سَلَّامٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ كُلُّهُمْ ، عَنْ زُبَيْدٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " سِبَابُ الْمُسْلِمِ فُسُوقٌ ، وَقِتَالُهُ كُفْرٌ " ، قَالَ زُبَيْدٌ : فَقُلْتُ لِأَبِي وَائِلٍ : أَنْتَ سَمِعْتَهُ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ يَرْوِيهِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ شُعْبَةَ ، قَوْلُ زُبَيْدٍ لِأَبِي وَائِلٍ .
سیدنا عبداللہ بن مسعود روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمان کو گالی دینا (یا اس کا عیب بیان کرنا) فسق ہے (یعنی گناہ ہے اور ایسا کرنے والا فاسق ہو جاتا ہے) اور اس سے لڑنا کفر ہے۔“ زبید نے کہا: میں نے ابووائل سے پوچھا: آپ نے خود سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہوئے سنا ہے؟ تو انہوں نے کہا: ہاں۔ اور نہیں ہے شعبہ کی حدیث میں پوچھنا زبید کا ابووائل سے۔
صحیح مسلم حدیث ۲۲۱ کا خلاصہ
اس حدیث کا مرکزی پیغام یہ ہے کہ مسلمان کی عزت کو ہلکا نہ سمجھا جائے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صاف فرمایا کہ مسلمان کو گالی دینا یا اس کا عیب بیان کرنا فسق ہے، یعنی گناہ کا کام ہے۔ اسی طرح مسلمان سے لڑنا بہت سخت معاملہ ہے، جس کے لیے حدیث میں کفر کا لفظ آیا ہے۔ اس لیے مسلمان کو گالی دینا حدیث کا موضوع صرف ایک لفظی غلطی نہیں، بلکہ دل، زبان اور رویے کی اصلاح کا سبق ہے۔ مسلمان سے لڑائی، عیب جوئی اور بدزبانی ایمان والے اخلاق کے خلاف ہیں۔ یہ روایت ہمیں بتاتی ہے کہ اختلاف ہو تو بھی زبان قابو میں رہے اور ہاتھ ظلم کی طرف نہ بڑھے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مسلمان کو گالی دینا گناہ کا کام ہے۔
- کسی مسلمان کا عیب بیان کرنا بھی سنگین اخلاقی خرابی بن سکتا ہے۔
- مسلمان سے لڑائی کو حدیث نے بہت سخت الفاظ میں بیان کیا ہے۔
- اختلاف کے وقت زبان اور ہاتھ دونوں کو قابو میں رکھنا چاہیے۔
