صحیح مسلم حدیث ۲۲۲ - مسلمان کی بے عزتی اور لڑائی کی سختی
مسلمان کی بے عزتی سے بچنے کی حدیث
صحیح مسلم : ۲۲۲
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۲۲
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَابْنُ الْمُثَنَّى ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ مَنْصُورٍ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الأَعْمَشِ كِلَاهُمَا ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ .
سیدنا عبداللہ بن مسعود روایت:
ایک اور سند سے ابووائل سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سابقہ حدیث کی مثل۔
صحیح مسلم حدیث ۲۲۲ کا خلاصہ
یہ روایت پچھلی حدیث کے مضمون کو دوسری سند سے بیان کرتی ہے۔ اس میں اصل بات یہی ہے کہ مسلمان کو گالی دینا فسق ہے اور مسلمان سے لڑنا بہت خطرناک عمل ہے۔ عام زندگی میں لوگ غصے میں کسی کی عزت، خاندان یا عیب پر بات کر دیتے ہیں، مگر حدیث ہمیں روکتی ہے کہ مسلمان کی زبان مسلمان کے لیے تکلیف کا سبب نہ بنے۔ مسلمان کو گالی دینا حدیث کے الفاظ میں گناہ ہے، اس لیے اسے معمولی بات سمجھنا درست نہیں۔ اسی طرح مسلمان سے لڑنا کفر کے لفظ سے بیان ہوا ہے، جو اس کام کی سختی بتاتا ہے۔ یہ سبق خاص طور پر جھگڑوں، بحثوں اور خاندانی معاملات میں یاد رکھنے کے قابل ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اسی مضمون کا دوسری سند سے آنا اس بات کی اہمیت دکھاتا ہے۔
- مسلمان کی عزت کا خیال رکھنا ضروری ہے۔
- گالی اور لڑائی دونوں ایمان والے اخلاق سے دور لے جاتے ہیں۔
- غصے میں بھی بدزبانی سے بچنا چاہیے۔
