صحیح مسلم حدیث ۲۲۲۲ - موت گھبراہٹ کی چیز ہے
موت گھبراہٹ کی چیز ہے: جنازہ دیکھ کر کھڑے ہونے کی حدیث
صحیح مسلم : ۲۲۲۲
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۲۲۲
وحَدَّثَنِي سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ وَهُوَ ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ هِشَامٍ الدَّسْتَوَائِيِّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مِقْسَمٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : " مَرَّتْ جَنَازَةٌ فَقَامَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقُمْنَا مَعَهُ فَقُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهَا يَهُودِيَّةٌ ، فَقَالَ : إِنَّ الْمَوْتَ فَزَعٌ فَإِذَا رَأَيْتُمُ الْجَنَازَةَ فَقُومُوا " .
جابر روایت:
ایک جنازہ گزرا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو گئے اور ہم بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھڑے ہو گئے پھر ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! وہ تو یہودی عورت کا جنازہ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”موت گھبراہٹ کی چیز ہے۔ پھر جب تم جنازہ دیکھو تو کھڑے ہو جاؤ۔“
صحیح مسلم حدیث ۲۲۲۲ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک جنازہ گزرا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو گئے، اور صحابہ بھی آپ کے ساتھ کھڑے ہو گئے۔ جب عرض کیا گیا کہ یہ تو یہودی عورت کا جنازہ ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: موت گھبراہٹ کی چیز ہے، پھر جب تم جنازہ دیکھو تو کھڑے ہو جاؤ۔ یہاں اصل بات موت کی یاد اور جنازہ کے سامنے سنجیدگی ہے۔ حدیث کا پیغام یہ ہے کہ جنازہ دیکھ کر کھڑے ہونا صرف کسی ایک خاص شخص کے لیے نہیں بتایا گیا، بلکہ موت کے معاملے کی وجہ سے بتایا گیا۔ اس لیے اس روایت میں جنازہ دیکھ کر کھڑے ہونے، موت کی یاد، اور آداب جنازہ کا مضمون بہت صاف ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- جنازہ دیکھ کر کھڑے ہونا اس حدیث میں دوبارہ بیان ہوا ہے۔
- موت انسان کو سنجیدہ کرنے والی حقیقت ہے۔
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو موت کے معاملے میں ادب سکھایا۔
