صحیح مسلم حدیث ۲۲۹۵ - اونٹوں کا حق اور صدقہ
اونٹوں میں اللہ کا حق: زکوٰۃ اور صدقہ کا مضمون
صحیح مسلم : ۲۲۹۵
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۲۹۵
وحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، أَنَّ بُكَيْرًا حَدَّثَهُ ، عَنْ ذَكْوَانَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " إِذَا لَمْ يُؤَدِّ الْمَرْءُ حَقَّ اللَّهِ أَوِ الصَّدَقَةَ فِي إِبِلِهِ " ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِ حَدِيثِ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے وہی روایت مروی ہے جو سہیل نے اپنے باپ سے اوپر روایت کی۔
صحیح مسلم حدیث ۲۲۹۵ کا خلاصہ
اس روایت میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے وہی مضمون نقل ہوا ہے جو سہیل نے اپنے والد سے روایت کیا تھا۔ متن میں خاص طور پر یہ الفاظ آئے ہیں کہ جب آدمی اپنے اونٹوں میں اللہ کا حق یا صدقہ ادا نہیں کرتا، پھر حدیث کا مضمون آگے پچھلی روایت جیسا بیان ہوا۔ اس لیے اس حدیث کا مرکزی موضوع جانوروں کی زکوٰۃ، اونٹوں کا حق، اور قیامت کا حساب ہے۔ یہاں ہمیں یہ بات سمجھ آتی ہے کہ اونٹ صرف ملکیت نہیں بلکہ ان کے ساتھ اللہ کا حق بھی وابستہ ہے۔ چونکہ متن نے پوری تفصیل کو سابقہ حدیث کے مانند کہا ہے، اس لیے تشریح میں نئی باتیں نہیں بڑھائی جائیں گی۔ عام فہم طور پر یہ حدیث مال اور جانوروں کی ذمہ داری یاد دلاتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اونٹوں میں اللہ کا حق یا صدقہ ادا کرنے کا ذکر آیا ہے۔
- یہ روایت سابقہ زکوٰۃ والی حدیث کے مضمون سے ملتی ہے۔
- جانوروں کی ملکیت کے ساتھ ذمہ داری بھی آتی ہے۔
