صحیح مسلم حدیث ۲۲۹۷ - جانوروں کی زکوٰۃ اور مال کا انجام

اونٹ، گائے، بکری اور مال کی زکوٰۃ: قیامت کی جواب دہی

صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۲۹۷

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَا مِنْ صَاحِبِ إِبِلٍ وَلَا بَقَرٍ وَلَا غَنَمٍ لَا يُؤَدِّي حَقَّهَا ، إِلَّا أُقْعِدَ لَهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِقَاعٍ قَرْقَرٍ ، تَطَؤُهُ ذَاتُ الظِّلْفِ بِظِلْفِهَا ، وَتَنْطَحُهُ ذَاتُ الْقَرْنِ بِقَرْنِهَا لَيْسَ فِيهَا يَوْمَئِذٍ جَمَّاءُ وَلَا مَكْسُورَةُ الْقَرْنِ ، قُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا حَقُّهَا ؟ ، قَالَ : إِطْرَاقُ فَحْلِهَا ، وَإِعَارَةُ دَلْوِهَا وَمَنِيحَتُهَا ، وَحَلَبُهَا عَلَى الْمَاءِ ، وَحَمْلٌ عَلَيْهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، وَلَا مِنْ صَاحِبِ مَالٍ لَا يُؤَدِّي زَكَاتَهُ ، إِلَّا تَحَوَّلَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ شُجَاعًا أَقْرَعَ يَتْبَعُ صَاحِبَهُ حَيْثُمَا ذَهَبَ ، وَهُوَ يَفِرُّ مِنْهُ ، وَيُقَالُ : هَذَا مَالُكَ الَّذِي كُنْتَ تَبْخَلُ بِهِ ، فَإِذَا رَأَى أَنَّهُ لَا بُدَّ مِنْهُ ، أَدْخَلَ يَدَهُ فِي فِيهِ فَجَعَلَ يَقْضَمُهَا كَمَا يَقْضَمُ الْفَحْلُ " .

جابر بن عبداللہ روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو اونٹ والا اور گائے والا اور بکری والا اس کی زکوٰۃ نہیں دیتا وہ قیامت کے دن بٹھایا جائے گا، ایک پٹ پر زمیں پر اور کھروں والا جانور اس کو اپنے کھروں سے روندے گا اور سینگوں والا اپنے سینگوں سے کونچے گا اس دن کوئی جانور بے سینگ کا نہ ہوگا نہ کوئی سینگ ٹوٹا۔“ہم نے عرض کی اے اللہ کے رسول! کیا ہے حق ان کا؟ فرمایا: ”اس کے نر کو نطفہ کے لئے دینا اور اس کے ڈول کو مانگے دینا اور اس کو دودھ پینے کے لئے مانگے دینا اور جب پانی پلا دیں اس کو دوہ لینا (اونٹوں کو چوتھے پانچویں دن پانی پلانے کو لاتے ہیں اور وہاں فقراء جمع ہوتے ہیں پھر وہاں دوہنے میں بھی جانوروں کو آرام ہوتا ہے اور فقراء کو بھی دودھ مل جاتا ہے) اور اللہ کی راہ میں سواری اور بوجھ لادنے والے کو دینا اور جو صاحب مال اپنے مال کی زکوٰۃ نہیں دیتا وہ مال اس کا قیامت کے دن ایک اژدہا گنجا بن جائے گا اور اپنے مالک کے پیچھے دوڑے گا، جدھر وہ بھاگے گا، اور وہ اس سے بھاگے گا، پھر کہا جائے گا کہ یہ وہی مال ہے جس میں تو بخیلی کرتا تھا (یعنی زکوٰۃ نہ دیتا تھا، صدقہ فطر نہ ادا کرتا تھا) پھر جب وہ دیکھے گا کہ یہ میرا پیچھا نہ چھوڑے گا تو اس کے منہ میں ہاتھ ڈال دے گا اور وہ اژدھا اس کا ہاتھ ایسا چبا ڈالے گا جیسے اونٹ چباتا ہے۔“

صحیح مسلم حدیث ۲۲۹۷ کا خلاصہ

اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹ، گائے اور بکری کے مالک کا ذکر فرمایا جو ان کا حق ادا نہیں کرتا۔ قیامت کے دن اسے ہموار زمین پر بٹھایا جائے گا، اور کھر والا جانور کھروں سے روندے گا، جبکہ سینگ والا سینگوں سے مارے گا۔ صحابہ نے پوچھا کہ ان کا حق کیا ہے؟ جواب میں نر جانور عاریت دینا، ڈول دینا، دودھ کے لیے جانور دینا، پانی پر دودھ دوہنا، اور اللہ کی راہ میں سواری یا بوجھ کے لیے دینا بیان ہوا۔ پھر مال کی زکوٰۃ نہ دینے والے کا ذکر ہے کہ مال گنجے اژدہے کی صورت میں پیچھا کرے گا۔ یہ حدیث صاف بتاتی ہے کہ زکوٰۃ اور مال کے حقوق صرف حسابی مسئلہ نہیں، بلکہ آخرت کی جواب دہی سے جڑے ہیں۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • جانوروں کے حقوق میں کئی عملی صورتیں بیان کی گئی ہیں۔
  • مال کی زکوٰۃ نہ دینے کا انجام سخت مثال سے سمجھایا گیا ہے۔
  • اونٹ، گائے اور بکری کی ملکیت کے ساتھ ان کا حق بھی ہے۔
  • قیامت میں انسان اپنے مال کے بارے میں جواب دہ ہوگا۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں