صحیح مسلم حدیث ۲۳۰۰ - زیادہ مال اور زکوٰۃ
زیادہ مال، خرچ اور زکوٰۃ: اصل کامیابی کس کی ہے؟
صحیح مسلم : ۲۳۰۰
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۳۰۰
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : انْتَهَيْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ جَالِسٌ فِي ظِلِّ الْكَعْبَةِ ، فَلَمَّا رَآنِي ، قَالَ : " هُمُ الْأَخْسَرُونَ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ " ، قَالَ : فَجِئْتُ حَتَّى جَلَسْتُ فَلَمْ أَتَقَارَّ أَنْ قُمْتُ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي ، مَنْ هُمْ ؟ ، قَالَ : " هُمُ الْأَكْثَرُونَ أَمْوَالًا ، إِلَّا مَنْ قَالَ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا مِنْ بَيْنَ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهِ وَعَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ ، وَقَلِيلٌ مَا هُمْ مَا مِنْ صَاحِبِ إِبِلٍ وَلَا بَقَرٍ وَلَا غَنَمٍ ، لَا يُؤَدِّي زَكَاتَهَا إِلَّا جَاءَتْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، أَعْظَمَ مَا كَانَتْ وَأَسْمَنَهُ ، تَنْطَحُهُ بِقُرُونِهَا وَتَطَؤُهُ بِأَظْلَافِهَا ، كُلَّمَا نَفِدَتْ أُخْرَاهَا ، عَادَتْ عَلَيْهِ أُولَاهَا ، حَتَّى يُقْضَى بَيْنَ النَّاسِ " ،
ابوذر روایت:
میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ کے سائے میں بیٹھے ہوئے تھے جب مجھ کو دیکھا تو فرمایا: ”رب کعبہ کی قسم! وہی نقصان والے ہیں۔“ تب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور بیٹھ گیا اور نہ ٹھہر سکا کہ کھڑا ہو گیا اور عرض کی اے اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں وہ کون ہیں؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ بہت مال والے ہیں مگر جس نے خرچ کیا ادھر اور ادھر اور جدھر مناسب ہوا اور دیا آگے سے اور پیچھے سے اور داہنے سے اور بائیں سے اور ایسے لوگ تھوڑے ہیں (یعنی جہاں دین کی تائید اور اللہ، رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی مرضی دیکھے وہاں بے تکلف خرچ کیا) اور جو اونٹ والا، گائے والا، بکری والا کہ ان کی زکوٰۃ نہیں دیتا قیامت کے دن آئیں گے وہ جانور ان سب دنوں سے موٹے ہو کر اور چربیلے جیسے دنیا میں تھے اور اپنے سینگ سے اس کو کوچیں گے اور اپنے کھروں سے اس کو روندیں گے جب پچھلا ان کا گزر جائے گا اگلا پھر اس پر آ جائے گا۔ یہی عذاب ہوتا رہے گا جب تک کہ فیصلہ ہو بندوں کا۔“
صحیح مسلم حدیث ۲۳۰۰ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ کے سائے میں بیٹھے تھے اور فرمایا کہ رب کعبہ کی قسم، وہی نقصان والے ہیں۔ پوچھنے پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا کہ مراد زیادہ مال والے ہیں، مگر وہ نہیں جو آگے، پیچھے، دائیں اور بائیں یعنی مناسب جگہوں پر خرچ کرتے ہیں، اور ایسے لوگ کم ہیں۔ پھر اونٹ، گائے اور بکری کی زکوٰۃ نہ دینے والوں کا ذکر آیا کہ قیامت کے دن وہ جانور بہت موٹے ہو کر آئیں گے اور مالک کو سینگوں سے ماریں گے اور کھروں سے روندیں گے، یہاں تک کہ لوگوں کا فیصلہ ہو جائے۔ اس حدیث کا اصل پیغام یہ ہے کہ زیادہ مال اپنے آپ میں کامیابی نہیں؛ مال کا حق ادا کرنا اور درست جگہ خرچ کرنا اصل ذمہ داری ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- زیادہ مال رکھنے والے کے لیے خرچ اور زکوٰۃ کی ذمہ داری بڑھ جاتی ہے۔
- جو مال مناسب جگہ خرچ کرے، وہ حدیث میں الگ ذکر ہوا ہے۔
- اونٹ، گائے اور بکری کی زکوٰۃ نہ دینے پر قیامت کے حساب کا ذکر ہے۔
- مال کو صرف جمع کرنا کافی نہیں، اس کا حق ادا کرنا بھی ضروری ہے۔
