صحیح مسلم حدیث ۲۳۰۱ - مویشیوں کی زکوٰۃ ادا نہ کرنے کی تنبیہ
زکوٰۃ کی حدیث: اونٹ، گائے اور بکری کا حق ادا کرنا
صحیح مسلم : ۲۳۰۱
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۳۰۱
وحَدَّثَنَاه أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ الْمَعْرُورِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : انْتَهَيْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ جَالِسٌ فِي ظِلِّ الْكَعْبَةِ ، فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ وَكِيعٍ ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ : " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا عَلَى الْأَرْضِ رَجُلٌ يَمُوتُ ، فَيَدَعُ إِبِلًا أَوْ بَقَرًا أَوْ غَنَمًا لَمْ يُؤَدِّ زَكَاتَهَا " .
ابوذر روایت:
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے دوسری سند سے وہی روایت مروی ہے مگر اس میں اتنا زیادہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قسم ہے اس پروردگار کی کہ میری جان اس کے ہاتھ میں ہے، جو زمین پر مر جائے اور اونٹ اور گائے اور بکری چھوڑ جائے اور اس کی زکوٰۃ نہ دے۔“ آگے وہی حدیث بیان کی۔
صحیح مسلم حدیث ۲۳۰۱ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع زکوٰۃ ہے، خاص طور پر مویشیوں کی زکوٰۃ۔ روایت میں صاف بتایا گیا ہے کہ جو شخص زمین پر مر جائے اور اس کے پاس اونٹ، گائے یا بکری ہو، مگر وہ ان کی زکوٰۃ ادا نہ کرے، تو یہ معمولی بات نہیں۔ یہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قسم کے ساتھ بات فرمائی، اس لیے پیغام بہت مضبوط ہے۔ عام فہم انداز میں سمجھیں تو مال رکھنا منع نہیں، لیکن مال میں جو حق واجب ہو اسے روکنا خطرناک ہے۔ زکوٰۃ کی حدیث ہمیں یاد دلاتی ہے کہ جانور، دولت اور آمدنی سب اللہ کی دی ہوئی نعمتیں ہیں۔ ان نعمتوں میں دوسروں کا حق ہو تو اسے وقت پر ادا کرنا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مویشیوں میں زکوٰۃ واجب ہو تو اسے روکنا سخت تنبیہ کا سبب ہے۔
- مال رکھنا ذمہ داری بھی لاتا ہے، صرف ملکیت کافی نہیں۔
- اونٹ، گائے اور بکری جیسے جانوروں کا شرعی حق ادا کرنا ضروری ہے۔
- حدیث میں قسم کے ساتھ بات آنا اس حکم کی سنجیدگی بتاتا ہے۔
