صحیح مسلم حدیث ۲۳۰۸ - خرچ کرو، اللہ تم پر خرچ کرے گا

انفاق کی حدیث: خرچ کرو، اللہ تم پر خرچ کرے گا

صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۳۰۸

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " قَالَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَا ابْنَ آدَمَ أَنْفِقْ أُنْفِقْ عَلَيْكَ " ، وَقَالَ : يَمِينُ اللَّهِ مَلْأَى ، وَقَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ : مَلْآنُ سَحَّاءُ لَا يَغِيضُهَا شَيْءٌ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ .

ابوہریرہ روایت:

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ”اے آدم کے بیٹے خرچ کر کہ میں بھی تیرے اوپر خرچ کروں۔“ اور فرمایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ ”اللہ کا ہاتھ بھرا ہوا ہے، رات دن کے خرچ کرنے سے کچھ کم نہیں ہوتا۔“

صحیح مسلم حدیث ۲۳۰۸ کا خلاصہ

اس حدیث قدسی میں بہت امید بھرا پیغام ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اے آدم کے بیٹے! خرچ کر، میں تجھ پر خرچ کروں گا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا کہ اللہ کا ہاتھ بھرا ہوا ہے اور رات دن خرچ کرنے سے اس میں کمی نہیں آتی۔ اس حدیث کا اصل موضوع انفاق یعنی اللہ کی رضا کے لیے خرچ کرنا ہے۔ عام انسان کبھی خرچ کرتے ہوئے ڈرتا ہے کہ مال کم نہ ہو جائے، مگر یہ حدیث دل کو حوصلہ دیتی ہے کہ خیر میں خرچ کرنا اللہ کے وعدے سے جڑا ہوا عمل ہے۔ یہاں فضول خرچی کی بات نہیں، بلکہ نیکی، صدقہ اور ضرورت مندوں پر خرچ کرنے کی ترغیب ہے۔ اللہ کا خزانہ بندوں کے اندازوں سے بہت بلند ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • اللہ کی رضا کے لیے خرچ کرنے کی واضح ترغیب دی گئی ہے۔
  • اللہ کا خزانہ بندوں کے خرچ سے کم نہیں ہوتا۔
  • صدقہ دیتے وقت اللہ پر بھروسہ رکھنا چاہیے۔
  • حدیث میں خرچ کا جواب اللہ کی طرف سے عطا کے وعدے کے ساتھ آیا ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں