حدیث ۲۳۰۷

صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۳۰۷

وحَدَّثَنَا شَيْبَانُ ابْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَشْهَبِ ، حَدَّثَنَا خُلَيْدٌ الْعَصَرِيُّ ، عَنْ الْأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ ، قَالَ : كُنْتُ فِي نَفَرٍ مِنْ قُرَيْشٍ ، فَمَرَّ أَبُو ذَرٍّ وَهُوَ يَقُولُ : " بَشِّرِ الْكَانِزِينَ بِكَيٍّ فِي ظُهُورِهِمْ ، يَخْرُجُ مِنْ جُنُوبِهِمْ ، وَبِكَيٍّ مِنْ قِبَلِ أَقْفَائِهِمْ ، يَخْرُجُ مِنْ جِبَاهِهِمْ " ، قَالَ : ثُمَّ تَنَحَّى ، فَقَعَدَ ، قَالَ : قُلْتُ : مَنْ هَذَا ؟ ، قَالُوا : هَذَا أَبُو ذَرٍّ ، قَالَ : فَقُمْتُ إِلَيْهِ فَقُلْتُ مَا شَيْءٌ سَمِعْتُكَ تَقُولُ قُبَيْلُ ، قَالَ : " مَا قُلْتُ إِلَّا شَيْئًا قَدْ سَمِعْتُهُ مِنْ نَبِيِّهِمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " ، قَالَ : قُلْتُ : مَا تَقُولُ فِي هَذَا الْعَطَاءِ ؟ ، قَالَ : " خُذْهُ فَإِنَّ فِيهِ الْيَوْمَ مَعُونَةً ، فَإِذَا كَانَ ثَمَنًا لِدِينِكَ فَدَعْهُ " .

‏‏‏‏ سیدنا احنف بن قیس رضی اللہ عنہ نے کہا: میں قریش کے چند لوگوں ساتھ بیٹھا ہوا تھا کہ ابوذر آئے اور فرمانے لگے: بشارت دو کنز جمع کرنے والوں کو ایسے داغ سے جو ان کے پیٹ پر لگائے جائیں گے اور ان کی کروٹوں سے نکل جائیں گے اور ان کی گدیوں میں لگائے جائیں گے تو ان کی پیشانیوں سے نکل آئیں گے پھر وہ کنارے ہو گئے اور میں نے لوگوں سے پوچھا کہ یہ کون ہیں؟ لوگوں نے کہا: یہ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ ہیں اور میں ان کی طرف کھڑا ہوا اور میں نے کہا: یہ کیا تھا جو میں نے ابھی سنا کہ آپ ابھی کہہ رہے تھے۔ انہوں نے کہا: میں وہ ہی کہہ رہا تھا جو سنا میں نے ان کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پھر میں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کیا فرماتے ہیں اس عطا میں (یعنی جو مال غنیمت سے امرا مسلمانوں کو دیا کرتے ہیں) انہوں نے فرمایا: تم اس کو لیتے رہو کہ اس میں مدد خرچ ہے، پھر جب یہ تمہارے دین کی قیمت ہو جائے تب چھوڑ دینا (یعنی دینے والے تم سے مداہنت فی الدین چاہیں تو نہ لینا)۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں