صحیح مسلم حدیث ۲۳۱۱ - گھر والوں پر خرچ کا بڑا اجر
اہل و عیال پر خرچ: سب سے زیادہ اجر والا دینار
صحیح مسلم : ۲۳۱۱
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۳۱۱
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ وَاللَّفْظُ لِأَبِي كُرَيْبٍ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ مُزَاحِمِ بْنِ زُفَرَ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " دِينَارٌ أَنْفَقْتَهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، وَدِينَارٌ أَنْفَقْتَهُ فِي رَقَبَةٍ ، وَدِينَارٌ تَصَدَّقْتَ بِهِ عَلَى مِسْكِينٍ ، وَدِينَارٌ أَنْفَقْتَهُ عَلَى أَهْلِكَ ، أَعْظَمُهَا أَجْرًا الَّذِي أَنْفَقْتَهُ عَلَى أَهْلِكَ " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک اشرفی تم نے اللہ کی راہ میں دی اور ایک اپنے غلام پر خرچ کی (یا کسی غلام کے آزاد ہونے میں دی) اور ایک مسکین کو دی اور ایک اپنے گھر والوں پر خرچ کی تو ثواب کی رُو سے بڑی وہی اشرفی ہے جو اپنے گھر والوں پر خرچ کی۔“
صحیح مسلم حدیث ۲۳۱۱ کا خلاصہ
اس حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چار طرح کے خرچ کا ذکر فرمایا: ایک دینار اللہ کی راہ میں، ایک غلام کے لیے، ایک مسکین پر صدقہ، اور ایک اپنے گھر والوں پر۔ پھر فرمایا کہ اجر کے اعتبار سے سب سے بڑا وہ ہے جو اپنے اہل پر خرچ کیا جائے۔ یہ بات گھر کے خرچ کو ایک نیک عمل کے طور پر سمجھاتی ہے۔ عام طور پر آدمی گھر کا خرچ معمول کی چیز سمجھتا ہے، لیکن حدیث بتاتی ہے کہ جب آدمی اپنے اہل کی ضرورت پوری کرتا ہے تو یہ بھی اجر کا باعث ہے۔ اس میں یہ بھی اشارہ ہے کہ صدقہ صرف گھر سے باہر نہیں، بلکہ اپنے ذمہ دار لوگوں کی ضروریات پوری کرنا بھی بہت اہم ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- گھر والوں پر خرچ اجر کے اعتبار سے بڑا بتایا گیا ہے۔
- مسکین، غلام اور اللہ کی راہ میں خرچ کا ذکر بھی حدیث میں آیا ہے۔
- اپنے اہل کی ضرورت پوری کرنا نیکی کا کام ہے۔
- صدقہ اور خرچ میں قریبی ذمہ داری کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔
