صحیح مسلم حدیث ۲۳۱۲ - ماتحتوں کا خرچ روکنے کا گناہ

نفقہ کی حدیث: جس کا خرچ لازم ہو اسے نہ روکیں

صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۳۱۲

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَرْمِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبْجَرَ الْكِنَانِيُّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ ، عَنْ خَيْثَمَةَ ، قَالَ : كُنَّا جُلُوسًا مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، إِذْ جَاءَهُ قَهْرَمَانٌ لَهُ ، فَدَخَلَ ، فَقَالَ : أَعْطَيْتَ الرَّقِيقَ قُوتَهُمْ ، قَالَ : لَا ، قَالَ : فَانْطَلِقْ فَأَعْطِهِمْ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كَفَى بِالْمَرْءِ إِثْمًا أَنْ يَحْبِسَ عَمَّنْ يَمْلِكُ قُوتَهُ " .

خیثمہ روایت:

ہم عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس بیٹھے تھے کہ ان کا داروغہ آیا اور انہوں نے پوچھا کہ تم نے غلاموں کو خرچ دے دیا؟ اس نے کہا: نہیں۔ انہوں نے کہا: دے دو، اس لیے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ ”آدمی کو اتنا ہی گناہ کافی ہے کہ جس کو خرچ دیتا ہے اس کا خرچ روک رکھے۔“

صحیح مسلم حدیث ۲۳۱۲ کا خلاصہ

اس حدیث میں عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کا ایک عملی واقعہ ہے۔ ان کا داروغہ آیا تو انہوں نے پوچھا کہ غلاموں کو خوراک دے دی؟ جب اس نے کہا نہیں، تو فوراً حکم دیا کہ جا کر انہیں دے دو۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان سنایا کہ آدمی کے گناہ کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ جس کا خرچ اس کے ذمہ ہو اس کا خرچ روک رکھے۔ یہ حدیث نفقہ کی ذمہ داری کو بہت آسان لفظوں میں سمجھاتی ہے۔ جو لوگ ہمارے ماتحت ہوں، یا جن کی خوراک اور ضرورت ہمارے ذمہ ہو، ان کا حق روکنا معمولی بات نہیں۔ اسلام خرچ کو صرف سخاوت نہیں کہتا، بلکہ جہاں ذمہ داری ہو وہاں اسے ادا کرنا لازم سمجھاتا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • جس کا خرچ انسان کے ذمہ ہو، اس کا خرچ روکنا گناہ ہے۔
  • عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما نے بات سنتے ہی خرچ دینے کا حکم دیا۔
  • ماتحت افراد کی خوراک اور ضرورت کا خیال رکھنا ضروری ہے۔
  • نفقہ صرف احسان نہیں، ذمہ داری بھی ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں