صحیح مسلم حدیث ۲۳۱۳ - خرچ کی درست ترتیب سیکھیں

خرچ کی ترتیب کی حدیث: پہلے اپنی ذات، پھر گھر والے

صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۳۱۳

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : أَعْتَقَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي عُذْرَةَ عَبْدًا لَهُ عَنْ دُبُرٍ ، فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " أَلَكَ مَالٌ غَيْرُهُ ؟ " ، فَقَالَ : لَا ، فَقَالَ : " مَنْ يَشْتَرِيهِ مِنِّي ؟ " فَاشْتَرَاهُ نُعَيْمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْعَدَوِيُّ بِثَمَانِ مِائَةِ دِرْهَمٍ ، فَجَاءَ بِهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَفَعَهَا إِلَيْهِ ، ثُمَّ قَالَ : " ابْدَأْ بِنَفْسِكَ فَتَصَدَّقْ عَلَيْهَا ، فَإِنْ فَضَلَ شَيْءٌ فَلِأَهْلِكَ ، فَإِنْ فَضَلَ عَنْ أَهْلِكَ شَيْءٌ فَلِذِي قَرَابَتِكَ ، فَإِنْ فَضَلَ عَنْ ذِي قَرَابَتِكَ شَيْءٌ ، فَهَكَذَا وَهَكَذَا يَقُولُ ، فَبَيْنَ يَدَيْكَ وَعَنْ يَمِينِكَ وَعَنْ شِمَالِكَ " ،

جابر روایت:

ایک شخص نے ایک غلام آزاد کیا اپنے مرنے کے بعد (یعنی کہا کہ تو میرے مرنے کے بعد آزاد ہے) اور اس کی خبر پہنچی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”تیرے پاس اور مال ہے اس کے سوا؟“ اس نے کہا: نہیں۔ تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کون خریدتا ہے اس کو مجھ سے؟“تو نعیم نے اس کو آٹھ سو درہم میں خرید لیا اور درہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے آئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مالک غلام کو دے دیئے اور فرمایا: ”پہلے اپنی ذات پر خرچ کرو پھر اگر بچے تو اپنے گھر والوں پر، پھر بچے تو اپنے ناتے والوں پر، پھر بچے تو ادھر اُدھر۔“ اور اشارہ کرتے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم آگے اور داہنے اور بائیں۔

صحیح مسلم حدیث ۲۳۱۳ کا خلاصہ

اس حدیث میں ایک شخص نے اپنے غلام کو مرنے کے بعد آزاد کرنے کی بات کی، جبکہ اس کے پاس اس کے علاوہ مال نہیں تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ کیا تمہارے پاس اور مال ہے؟ جب جواب نہیں ملا تو غلام کو فروخت کر کے رقم اس شخص کو دے دی، پھر خرچ کی ترتیب بتائی: پہلے اپنی ذات پر خرچ کرو، پھر اگر بچے تو گھر والوں پر، پھر رشتہ داروں پر، پھر آگے، دائیں اور بائیں یعنی دوسرے ضرورت مندوں پر۔ یہ حدیث خرچ کی منصوبہ بندی سکھاتی ہے۔ نیکی کا جذبہ اچھا ہے، مگر اپنی بنیادی ضرورت، اہل خانہ اور قرابت والوں کی ذمہ داری کو چھوڑ کر خرچ کرنا درست ترتیب نہیں۔ صدقہ میں حکمت اور توازن بھی ضروری ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • خرچ کی ابتدا اپنی بنیادی ضرورت سے کرنے کی تعلیم دی گئی۔
  • اس کے بعد گھر والوں اور پھر رشتہ داروں کا حق بتایا گیا۔
  • نیکی کے کام میں بھی ذمہ داری اور ترتیب ضروری ہے۔
  • ضرورت سے زائد مال دوسرے لوگوں پر خرچ کیا جا سکتا ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں