صحیح مسلم حدیث ۲۳۱۴ - صدقہ میں ذمہ داری اور ترتیب
صدقہ کی ترتیب: اپنی ضرورت اور گھر والوں کا حق پہلے
صحیح مسلم : ۲۳۱۴
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۳۱۴
وحَدَّثَنِي يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ عُلَيَّةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ يُقَالُ لَهُ أَبُو مَذْكُورٍ ، أَعْتَقَ غُلَامًا لَهُ عَنْ دُبُرٍ يُقَالُ لَهُ يَعْقُوبُ ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمَعْنَى حَدِيثِ اللَّيْثِ .
جابر روایت:
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے دوسری سند مذکور ہے اور اس سے بھی یہی روایت مروی ہوئی۔ اتنی بات زیادہ ہے کہ اس مالک کا نام ابومذکور تھا اور غلام کا یعقوب۔
صحیح مسلم حدیث ۲۳۱۴ کا خلاصہ
یہ روایت اسی واقعے کو دوسری سند سے بیان کرتی ہے۔ اس میں اتنی بات زیادہ آئی کہ مالک کا نام ابو مذکور تھا اور غلام کا نام یعقوب۔ اصل مضمون وہی ہے کہ ایک شخص کے پاس اس غلام کے سوا مال نہیں تھا، اس لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بیچ کر رقم اس مالک کو دی اور خرچ کی ترتیب سمجھائی۔ پہلے اپنی ذات، پھر گھر والے، پھر رشتہ دار، اور پھر دوسرے لوگ۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ صدقہ صرف جذبات کا نام نہیں، بلکہ اس میں سمجھ داری بھی چاہیے۔ اگر آدمی اپنے ضروری حق یا گھر والوں کی ضرورت چھوڑ کر سب کچھ دے دے تو یہ وہ ترتیب نہیں جو اس روایت میں بتائی گئی ہے۔ اسلام خرچ کو منظم اور ذمہ دار بناتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- روایت میں مالک اور غلام کے نام کی اضافی تفصیل آئی ہے۔
- خرچ میں اپنی ضرورت کو پہلے رکھنے کی تعلیم برقرار ہے۔
- گھر والوں اور رشتہ داروں کی ذمہ داری صدقہ سے الگ نہیں کی جا سکتی۔
- نیکی کے کام میں بھی توازن اور ترتیب ضروری ہے۔
