صحیح مسلم حدیث ۲۳۲۰ - بچوں پر خرچ کرنے کا اجر

بچوں پر خرچ کی حدیث: زیر کفالت اولاد کا خیال

صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۳۲۰

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ لِي أَجْرٌ فِي بَنِي أَبِي سَلَمَةَ ؟ ، أُنْفِقُ عَلَيْهِمْ وَلَسْتُ بِتَارِكَتِهِمْ هَكَذَا وَهَكَذَا إِنَّمَا هُمْ بَنِيَّ ، فَقَالَ : " نَعَمْ لَكِ فِيهِمْ أَجْرُ مَا أَنْفَقْتِ عَلَيْهِمْ " ،

ام سلمہ روایت:

میں نے عرض کی کہ اے اللہ کے رسول! کیا مجھے ابوسلمہ کے بیٹوں پر خرچ کرنے سے ثواب ہے؟ اور میں ان کو چھوڑنے والی نہیں کہ ادھر ادھر پریشان ہو جائیں، اس لیے کہ وہ میرے بیٹے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک جو تم ان پر خرچ کرتی ہو اس میں ثواب ہے۔“

صحیح مسلم حدیث ۲۳۲۰ کا خلاصہ

اس حدیث میں سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ کیا مجھے ابو سلمہ کے بیٹوں پر خرچ کرنے میں اجر ملے گا؟ انہوں نے یہ بھی کہا کہ میں انہیں چھوڑنے والی نہیں کہ وہ ادھر ادھر پریشان ہوں، کیونکہ وہ میرے بیٹے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں، جو تم ان پر خرچ کرتی ہو اس میں تمہارے لیے اجر ہے۔ اس حدیث کا پیغام بہت سیدھا ہے: بچوں اور زیر کفالت افراد پر خرچ کرنا صرف روزمرہ ذمہ داری نہیں، بلکہ اجر والا عمل بھی ہے۔ یہاں خاص طور پر ان بچوں کا ذکر ہے جنہیں ام سلمہ رضی اللہ عنہا اپنا سمجھ کر چھوڑنا نہیں چاہتیں۔ گھر کے اندر کی خدمت اور خرچ بھی اللہ کے ہاں قابل اجر ہو سکتا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • بچوں پر خرچ کرنے میں اجر بتایا گیا ہے۔
  • ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے بچوں کو چھوڑنے سے انکار کیا کیونکہ وہ ان کے بیٹے تھے۔
  • زیر کفالت افراد کا خیال رکھنا نیکی کا کام ہے۔
  • گھر کے اندر کیا گیا ذمہ دارانہ خرچ بھی اجر کا سبب بن سکتا ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں