صحیح مسلم حدیث ۲۲۹۸ - زکوٰۃ وصول کرنے والوں سے معاملہ
زکوٰۃ وصول کرنے والوں سے نرم معاملہ
صحیح مسلم : ۲۲۹۸
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۲۹۸
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ الْجَحْدَرِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ هِلَالٍ الْعَبْسِيُّ ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : جَاءَ نَاسٌ مِنَ الْأَعْرَابِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالُوا : إِنَّ نَاسًا مِنَ الْمُصَدِّقِينَ يَأْتُونَنَا فَيَظْلِمُونَنَا ، قَالَ : فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَرْضُوا مُصَدِّقِيكُمْ " ، قَالَ جَرِيرٌ : مَا صَدَرَ عَنِّي مُصَدِّقٌ مُنْذُ سَمِعْتُ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إِلَّا وَهُوَ عَنِّي رَاضٍ ،
جریر روایت:
چند لوگ گاؤں کے آئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اور عرض کی بعضے تحصیل دار ہمارے پاس آتے ہیں اور وہ ہم پر زیادتی کرتے ہیں (یعنی جانور اچھے سے اچھا لیتے ہیں حالانکہ متوسط لینا چاہیئے) تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم راضی کر دیا کرو اپنے تحصیل داروں کو۔“ (یعنی اگرچہ وہ تم پر زیادتی بھی کریں) سیدنا جریر رضی اللہ عنہ نے کہا: جب سے میں نے یہ سنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تب سے کوئی تحصیل دار میرے پاس سے نہیں گیا مگر خوش ہو کر۔
صحیح مسلم حدیث ۲۲۹۸ کا خلاصہ
اس حدیث میں چند دیہاتی لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور شکایت کی کہ زکوٰۃ وصول کرنے والے بعض لوگ ان پر زیادتی کرتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنے زکوٰۃ وصول کرنے والوں کو راضی کر دیا کرو۔ سیدنا جریر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب سے انہوں نے یہ بات سنی، ان کے پاس سے کوئی وصول کرنے والا ناراض ہو کر نہیں گیا۔ اس حدیث کا موضوع زکوٰۃ وصولی کے وقت رویہ اور معاملہ ہے۔ متن سے یہ بات ملتی ہے کہ اختلاف یا شکایت کے باوجود جھگڑے کو بڑھانے کے بجائے ایسا انداز اپنایا جائے جس سے معاملہ بہتر رہے۔ اس روایت میں زکوٰۃ کی مقدار نہیں، بلکہ وصولی کے موقع پر اخلاق اور اطمینان کا پہلو نمایاں ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- زکوٰۃ وصول کرنے والوں کے ساتھ ایسا معاملہ کیا جائے کہ وہ راضی ہوں۔
- شکایت کے باوجود معاملے کو بہتر انداز سے سنبھالنے کی نصیحت آئی ہے۔
- سیدنا جریر رضی اللہ عنہ نے اس نصیحت پر مسلسل عمل کیا۔
