صحیح مسلم حدیث ۲۳۰۳ - مال روکنے کے بجائے خرچ کرنے کی ترغیب
صدقہ کی حدیث: مال باقی رکھنے کے بجائے خیر میں لگانا
صحیح مسلم : ۲۳۰۳
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۳۰۳
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ .
مذکورہ بالا حدیث اس سند سے بھی مروی ہے۔
صحیح مسلم حدیث ۲۳۰۳ کا خلاصہ
یہ روایت اسی مضمون کو دوسری سند سے بیان کرتی ہے جو پچھلی حدیث میں آیا ہے۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے احد پہاڑ کے برابر سونا بھی اپنے پاس تین دن سے زیادہ باقی رہنا پسند نہیں فرمایا، سوائے اس دینار کے جو قرض ادا کرنے کے لیے رکھا جائے۔ اس میں مال سے بے جا لگاؤ کم کرنے کی تعلیم ہے۔ عام آدمی کے لیے سبق یہ ہے کہ دولت آئے تو اسے صرف جمع کرنے کی چیز نہ سمجھا جائے۔ پہلے ذمہ داری، جیسے قرض، ادا کی جائے، پھر مال کو اچھے کاموں میں لگایا جائے۔ صدقہ کی حدیث اور مال خرچ کرنے کی حدیث دونوں یہی سوچ دیتی ہیں کہ مال ہاتھ میں ہو، دل میں نہ بیٹھ جائے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- دوسری سند سے آنا اس مضمون کی روایت کو مزید واضح کرتا ہے۔
- قرض کے لیے مال روکنا حدیث کے متن میں مستثنیٰ ہے۔
- مال کو صرف جمع کرنے کے بجائے خیر کے کام میں لگانا چاہیے۔
- دولت کے ساتھ دل کا بے جا تعلق کم رکھنا بہتر ہے۔
