صحیح مسلم حدیث ۲۳۵۵ - اخلاصِ صدقہ
تھوڑا صدقہ حدیث: اخلاص پر طعن نہ کرو
صحیح مسلم : ۲۳۵۵
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۳۵۵
حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ . ح وحَدَّثَنِيهِ بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ وَاللَّفْظُ لَهُ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ ، قَالَ : " أُمِرْنَا بِالصَّدَقَةِ ، قَالَ : كُنَّا نُحَامِلُ ، قَالَ : فَتَصَدَّقَ أَبُو عَقِيلٍ بِنِصْفِ صَاعٍ ، قَالَ : وَجَاءَ إِنْسَانٌ بِشَيْءٍ أَكْثَرَ مِنْهُ ، فَقَالَ الْمُنَافِقُونَ : " إِنَّ اللَّهَ لَغَنِيٌّ عَنْ صَدَقَةِ هَذَا وَمَا فَعَلَ هَذَا الْآخَرُ إِلَّا رِيَاءً ، فَنَزَلَتْ الَّذِينَ يَلْمِزُونَ الْمُطَّوِّعِينَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ فِي الصَّدَقَاتِ وَالَّذِينَ لا يَجِدُونَ إِلا جُهْدَهُمْ سورة التوبة آية 79 ، وَلَمْ يَلْفِظْ بِشْرٌ بِالْمُطَّوِّعِينَ ،
ابومسعود روایت:
ہم کو حکم ہوا صدقہ کا اور ہم بوجھ ڈھویا کرتے تھے اور صدقہ دیا ابوعقیل نے آدھا صاع (یعنی دو سیر) اور ایک شخص نے کچھ اس سے زیادہ دیا تو منافق کہنے لگے: اللہ کو اس کے صدقہ کی کچھ پروا نہیں ہے اور اس دوسرے نے تو صرف دکھانے ہی کو صدقہ دیا ہے پھر یہ آیت اتری «الَّذِينَ يَلْمِزُونَ الْمُطَّوِّعِينَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ فِى الصَّدَقَاتِ وَالَّذِينَ لاَ يَجِدُونَ إِلاَّ جُهْدَهُمْ» ”جو لوگ طعن کرتے ہیں۔ خوشی سے صدقہ دینے والے مؤمنوں کو اور ان لوگوں کو جو نہیں پاتے ہیں مگر اپنی مزدوری۔“ اور بشر کی روایت میں «مطوعين» کا لفظ نہیں ہے۔
صحیح مسلم حدیث ۲۳۵۵ کا خلاصہ
اس حدیث میں صدقہ کے ساتھ اخلاص اور طعن سے بچنے کا سبق ہے۔ سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہمیں صدقہ کا حکم دیا گیا، اور ہم بوجھ ڈھوتے تھے۔ ابو عقیل رضی اللہ عنہ نے آدھا صاع صدقہ دیا، اور ایک شخص کچھ زیادہ لے آیا۔ منافقوں نے ایک پر کہا کہ اللہ کو اس کے صدقہ کی کیا پروا، اور دوسرے پر کہا کہ اس نے دکھاوے کے لیے دیا ہے۔ پھر قرآن کی آیت اتری جس میں خوشی سے صدقہ دینے والوں اور اپنی محنت کے مطابق دینے والوں پر طعن کرنے والوں کا ذکر ہے۔ یہ حدیث بتاتی ہے کہ تھوڑا صدقہ، محنت کی کمائی اور اخلاص کو حقیر نہیں سمجھنا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- کسی کے چھوٹے صدقہ کا مذاق نہیں اڑانا چاہیے۔
- اپنی محنت سے دیا گیا تھوڑا مال بھی خیر ہو سکتا ہے۔
- بغیر علم کے کسی کے صدقہ کو ریا کہنا بہت بری بات ہے۔
