صحیح مسلم حدیث ۲۳۴۷ - آگ سے بچاؤ

اتقوا النار حدیث: ایک کھجور کا ٹکڑا بھی صدقہ بن سکتا ہے

صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۳۴۷

حَدَّثَنَا عَوْنُ بْنُ سَلَّامٍ الْكُوفِيُّ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْجُعْفِيُّ ، عَنْ أَبِي إسحاق ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْقِلٍ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ أَنْ يَسْتَتِرَ مِنَ النَّارِ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ فَلْيَفْعَلْ " .

عدی روایت:

سیدنا عدی رضی اللہ عنہ نے سنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتے تھے: ” جو کر سکے تم میں سے کہ بچے آگ سے اگرچہ ایک کھجور کا ٹکڑا بھی دے کر ہو، تو بھی کر گزرے۔“

صحیح مسلم حدیث ۲۳۴۷ کا خلاصہ

اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت مختصر مگر دل کو جگانے والی بات فرمائی۔ آپ نے فرمایا کہ تم میں سے جو شخص آگ سے بچنے کی طاقت رکھتا ہو، چاہے ایک کھجور کا ٹکڑا دے کر ہی، تو وہ ایسا کر لے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ چھوٹا صدقہ بھی بے معنی نہیں۔ آدمی کے پاس اگر زیادہ مال نہ ہو تو بھی خیر کا دروازہ بند نہیں ہوتا۔ ایک کھجور کا ٹکڑا، تھوڑی سی مدد، یا اپنی طاقت کے مطابق دینا بھی عمل ہے۔ اتقوا النار، صدقہ کی فضیلت، چھوٹا صدقہ اور کھجور کا صدقہ اس حدیث کے اہم الفاظ ہیں۔ یہ ہمیں نیکی کو آسان سمجھنے کی دعوت دیتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • آگ سے بچنے کے لیے اپنی طاقت کے مطابق صدقہ کرنا چاہیے۔
  • چھوٹی چیز کو حقیر سمجھ کر نیکی چھوڑنی نہیں چاہیے۔
  • صدقہ میں مقدار سے زیادہ عمل کی طرف قدم بڑھانا اہم ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں