صحیح مسلم حدیث ۲۳۴۸ - حساب اور صدقہ
قیامت کا حساب حدیث: آگ سے بچاؤ صدقہ اور اچھی بات سے
صحیح مسلم : ۲۳۴۸
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۳۴۸
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ ، وَإسحاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، قَالَ ابْنُ حُجْرٍ حَدَّثَنَا ، وقَالَ الْآخَرَانِ : أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ خَيْثَمَةَ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا سَيُكَلِّمُهُ اللَّهُ لَيْسَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُ تُرْجُمَانٌ ، فَيَنْظُرُ أَيْمَنَ مِنْهُ فَلَا يَرَى إِلَّا مَا قَدَّمَ ، وَيَنْظُرُ أَشْأَمَ مِنْهُ فَلَا يَرَى إِلَّا مَا قَدَّمَ ، وَيَنْظُرُ بَيْنَ يَدَيْهِ فَلَا يَرَى إِلَّا النَّارَ تِلْقَاءَ وَجْهِهِ ، فَاتَّقُوا النَّارَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ " ، زَادَ ابْنُ حُجْرٍ ، قَالَ الْأَعْمَشُ : وَحَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ ، عَنْ خَيْثَمَةَمِثْلَهُ ، وَزَادَ فِيهِ : " وَلَوْ بِكَلِمَةٍ طَيِّبَةٍ ، وقَالَ إسحاق : قَالَ الْأَعْمَشُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ خَيْثَمَةَ .
عدی روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ فرمایا: تم میں سے ہر شخص کو اللہ تعالیٰ سے بات کرنا ہو گی اس طرح کہ اللہ اور اس کے بیچ میں کوئی ترجمہ کرنے والا نہ ہو گا اور آدمی داہنی طرف دیکھے گا تو اس کے اگلے پچھلے عمل نظر آئیں گے اور بائیں طرف دیکھے گا تو وہی نظر آئیں گے اور آگے دیکھے گا تو کچھ نہ سوجھے گا سوا دوزخ کے جو اس کے منہ کے سامنے ہو گی۔ سو بچو آگ سے اگرچہ ایک کھجور کا ٹکڑا دے کر بھی ہو۔“ اور دوسری روایت میں یہ زیادہ ہے کہ ”اگرچہ ایک پاکیزہ بات بھی کہہ کر ہو۔“
صحیح مسلم حدیث ۲۳۴۸ کا خلاصہ
اس حدیث میں آخرت کا حساب اور صدقہ دونوں باتیں ساتھ آتی ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں سے ہر شخص سے اللہ تعالیٰ بات کرے گا، اور اس کے اور اللہ کے درمیان کوئی ترجمان نہیں ہو گا۔ آدمی دائیں اور بائیں دیکھے گا تو اپنے کیے ہوئے عمل دیکھے گا، اور سامنے دیکھے گا تو آگ نظر آئے گی۔ پھر حکم دیا گیا کہ آگ سے بچو، چاہے ایک کھجور کا ٹکڑا دے کر۔ ایک روایت میں پاکیزہ بات کا بھی ذکر آیا ہے۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ قیامت کا حساب انسان کو اپنے اعمال کی طرف لوٹائے گا، اور صدقہ یا اچھی بات جیسے اعمال بھی خیر کے راستے ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ہر انسان کو اپنے اعمال کا سامنا کرنا ہو گا۔
- آگ سے بچنے کے لیے چھوٹا صدقہ بھی کیا جا سکتا ہے۔
- اچھی اور پاکیزہ بات بھی خیر کا عمل ہے۔
