صحیح مسلم حدیث ۲۳۵۰ - چھوٹا صدقہ
چھوٹا صدقہ حدیث: کھجور کا ٹکڑا اور اچھی بات
صحیح مسلم : ۲۳۵۰
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۳۵۰
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ خَيْثَمَةَ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ ذَكَرَ النَّارَ ، فَتَعَوَّذَ مِنْهَا وَأَشَاحَ بِوَجْهِهِ ثَلَاثَ مِرَارٍ ، ثُمَّ قَالَ : " اتَّقُوا النَّارَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ ، فَإِنْ لَمْ تَجِدُوا فَبِكَلِمَةٍ طَيِّبَةٍ " .
عدی روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوزخ کا ذکر کیا اور اس سے پناہ مانگی اور تین بار منہ پھیرا اور فرمایا: ”بچو تم آگ سے اگرچہ ایک کھجور کا ٹکڑا دے کر ہو اور اگر وہ بھی نہ ملے تو اچھی بات کہہ کر۔“
صحیح مسلم حدیث ۲۳۵۰ کا خلاصہ
اس روایت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوزخ کا ذکر کیا، اس سے پناہ مانگی، اور تین بار منہ پھیرا۔ پھر فرمایا کہ آگ سے بچو، چاہے ایک کھجور کا ٹکڑا دے کر ہو، اور اگر وہ بھی نہ ملے تو اچھی بات کہہ کر۔ یہ حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ نیکی کے دروازے مختلف ہیں۔ کوئی مال سے مدد کر سکتا ہے، کوئی تھوڑا سا صدقہ دے سکتا ہے، اور جس کے پاس یہ بھی نہ ہو وہ اچھی بات کہہ سکتا ہے۔ صدقہ کی فضیلت، اتقوا النار، کھجور کا صدقہ اور اچھی بات اس روایت کے بنیادی الفاظ ہیں۔ یہ پیغام عام آدمی کے لیے بہت آسان اور عملی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- آگ سے پناہ مانگنا اور اس سے بچنے کی کوشش کرنا چاہیے۔
- چھوٹا صدقہ بھی خیر کا ذریعہ بن سکتا ہے۔
- اچھی بات کہنا بھی ایسا عمل ہے جسے معمولی نہیں سمجھنا چاہیے۔
