صحیح مسلم حدیث ۲۳۴۶ - حلال رزق اور دعا
اللہ طیب ہے حدیث: حلال رزق اور دعا کی قبولیت
صحیح مسلم : ۲۳۴۶
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۳۴۶
وحَدَّثَنِي أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ مَرْزُوقٍ ، حَدَّثَنِي عَدِيُّ بْنُ ثَابِتٍ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ اللَّهَ طَيِّبٌ لَا يَقْبَلُ إِلَّا طَيِّبًا ، وَإِنَّ اللَّهَ أَمَرَ الْمُؤْمِنِينَ بِمَا أَمَرَ بِهِ الْمُرْسَلِينَ ، فَقَالَ : يَأَيُّهَا الرُّسُلُ كُلُوا مِنَ الطَّيِّبَاتِ وَاعْمَلُوا صَالِحًا إِنِّي بِمَا تَعْمَلُونَ عَلِيمٌ سورة المؤمنون آية 51 ، وَقَالَ : يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُلُوا مِنْ طَيِّبَاتِ مَا رَزَقْنَاكُمْ سورة البقرة آية 172 ، ثُمَّ ذَكَرَ الرَّجُلَ يُطِيلُ السَّفَرَ أَشْعَثَ أَغْبَرَ ، يَمُدُّ يَدَيْهِ إِلَى السَّمَاءِ يَا رَبِّ يَا رَبِّ ، وَمَطْعَمُهُ حَرَامٌ وَمَشْرَبُهُ حَرَامٌ وَمَلْبَسُهُ حَرَامٌ وَغُذِيَ بِالْحَرَامِ فَأَنَّى يُسْتَجَابُ لِذَلِكَ " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے لوگو! اللہ تعالیٰ پاک ہے (یعنی صفات حدوث اور سمات نقص و زوال سے) اور نہیں قبول کرتا مگر پاک مال کو (یعنی حلال کو) اور اللہ پاک نے مؤمنوں کو وہی حکم کیا جو مرسلین کو حکم کیا اور فرمایا: اے رسولو! کھاؤ پاکیزہ چیزیں اور نیک عمل کرو میں تمہارے کاموں کو جانتا ہوں۔ اور فرمایا: اے ایمان والو! کھاؤ پاک چیزیں جو ہم نے تم کو دیں، پھر ذکر کیا ایسے مرد کا جو کہ لمبے لمبے سفر کرتا ہے اور گرد و غبار میں بھرا ہے اور پھر ہاتھ آسمان کی طرف اٹھاتا ہے اور کہتا ہے اے رب! اے رب! حالانکہ کھانا اس کا حرام ہے اور پینا اس کا حرام ہے اور لباس اس کا حرام ہے اور غذا اس کی حرام ہے پھر اس کی دعا کیونکر قبول ہو۔“
صحیح مسلم حدیث ۲۳۴۶ کا خلاصہ
اس حدیث کا مرکزی موضوع حلال رزق اور دعا کی قبولیت ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ پاک ہے اور پاک ہی کو قبول فرماتا ہے۔ پھر بتایا کہ اللہ نے مؤمنوں کو بھی پاک چیزیں کھانے اور نیک عمل کرنے کا حکم دیا، جیسے رسولوں کو حکم دیا۔ اس کے بعد ایک ایسے شخص کا ذکر آیا جو لمبا سفر کرتا ہے، گرد و غبار میں ہوتا ہے، ہاتھ آسمان کی طرف اٹھا کر اے رب، اے رب کہتا ہے، مگر اس کا کھانا حرام، پینا حرام، لباس حرام اور غذا حرام ہوتی ہے۔ پھر فرمایا گیا کہ ایسے شخص کی دعا کیسے قبول ہو؟ یہ حدیث صاف بتاتی ہے کہ حلال کھانا، حلال پینا اور پاک کمائی دعا کے معاملے میں بہت اہم ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اللہ پاک ہے اور پاک چیز کو قبول فرماتا ہے۔
- کھانے، پینے، لباس اور غذا میں حلال کا خیال رکھنا چاہیے۔
- دعا کے ساتھ اپنے رزق اور کمائی کی پاکیزگی بھی دیکھنی چاہیے۔
