صحیح مسلم حدیث ۲۳۴۴ - صدقہ کا صحیح مصرف
صدقہ کا صحیح مصرف: پاک کمائی کو حق جگہ خرچ کرنا
صحیح مسلم : ۲۳۴۴
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۳۴۴
وحَدَّثَنِي أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ . ح وحَدَّثَنِيهِ أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ الْأَوْدِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ بِلَالٍ ، كِلَاهُمَا ، عَنْ سُهَيْلٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ فِي حَدِيثِ رَوْحٍ " مِنَ الْكَسْبِ الطَّيِّبِ ، فَيَضَعُهَا فِي حَقِّهَا " ، وَفِي حَدِيثِ سُلَيْمَانَ : " فَيَضَعُهَا فِي مَوْضِعِهَا " ،
ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا، مگر اس میں پاک «كسب» کا ذکر ہے اور یہ زیادہ ہے کہ ”اس صدقہ کو اپنے حق کی جگہ میں خرچ کرے۔“
صحیح مسلم حدیث ۲۳۴۴ کا خلاصہ
اس روایت میں پچھلی بات کے ساتھ ایک اہم اضافہ آیا ہے کہ صدقہ پاک کمائی سے ہو اور اسے اس کے حق کی جگہ رکھا جائے۔ یعنی صرف دینا ہی کافی نہیں، بلکہ صدقہ کا صحیح مصرف بھی دیکھا جائے۔ حدیث کا پیغام صاف ہے کہ حلال مال سے صدقہ دیا جائے، پھر اسے ایسی جگہ خرچ کیا جائے جہاں اس کا حق بنتا ہو۔ یہی وجہ ہے کہ صدقہ کی فضیلت کے ساتھ حلال رزق اور درست خرچ کا ذکر آتا ہے۔ عام آدمی کے لیے اس میں بڑی سیدھی نصیحت ہے: کمائی پاک رکھو، نیت خیر کی رکھو، اور مدد وہاں پہنچاؤ جہاں واقعی ضرورت ہو۔ اس طرح چھوٹا صدقہ بھی معنی رکھتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- صدقہ پاک کمائی سے دینا چاہیے۔
- صدقہ ایسی جگہ دیا جائے جہاں اس کا حق بنتا ہو۔
- نیکی میں مال کی پاکیزگی اور خرچ کی جگہ دونوں اہم ہیں۔
