صحیح مسلم حدیث ۲۳۴۲ - پاک مال سے صدقہ
صدقہ کی فضیلت: پاک مال سے دیا گیا چھوٹا عمل
صحیح مسلم : ۲۳۴۲
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۳۴۲
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا تَصَدَّقَ أَحَدٌ بِصَدَقَةٍ مِنْ طَيِّبٍ ، وَلَا يَقْبَلُ اللَّهُ إِلَّا الطَّيِّبَ ، إِلَّا أَخَذَهَا الرَّحْمَنُ بِيَمِينِهِ وَإِنْ كَانَتْ تَمْرَةً ، فَتَرْبُو فِي كَفِّ الرَّحْمَنِ حَتَّى تَكُونَ أَعْظَمَ مِنَ الْجَبَلِ ، كَمَا يُرَبِّي أَحَدُكُمْ فَلُوَّهُ أَوْ فَصِيلَهُ " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جو شخص صدقہ دیتا ہے پاک مال سے اور اللہ قبول نہیں کرتا مگر پاک مال کو(یعنی حلال کو) پھر جب کوئی پاک مال سے صدقہ دیتا ہے تو رحمٰن اپنے داہنے ہاتھ میں اس کو لیتا ہے اگرچہ وہ ایک کھجور بھی ہو (عرب میں اس سے حقیر کوئی شئے نہیں) اور وہ رحمٰن کی ہتھیلی میں بڑھتی رہتی ہے یہاں تک کہ پہاڑ کے برابر ہو جاتی ہے جیسے کوئی اپنے گھوڑے کے بچھڑے کو پالتا ہے یا اونٹ کے بچے کو۔“
صحیح مسلم حدیث ۲۳۴۲ کا خلاصہ
اس حدیث میں صدقہ کی فضیلت بہت آسان انداز میں سمجھائی گئی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص پاک مال، یعنی حلال مال، سے صدقہ دیتا ہے تو اللہ پاک اسے قبول فرماتا ہے، کیونکہ اللہ پاک مال ہی کو قبول کرتا ہے۔ صدقہ اگر ایک کھجور کے برابر بھی ہو تو وہ اللہ کے ہاں بڑھتا رہتا ہے، یہاں تک کہ پہاڑ کے برابر ہو جاتا ہے۔ حدیث میں مثال دی گئی کہ جیسے کوئی اپنے گھوڑے کے بچے یا اونٹ کے بچے کو پالتا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اصل بات صدقہ کی مقدار نہیں، بلکہ پاک کمائی، حلال رزق اور اللہ کے لیے دینا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- صدقہ پاک اور حلال مال سے ہونا چاہیے۔
- چھوٹا صدقہ بھی اللہ کے ہاں قدر رکھتا ہے جب وہ پاک مال سے دیا جائے۔
- نیکی کا وزن صرف مقدار سے نہیں، بلکہ پاکیزگی اور قبولیت سے جڑا ہے۔
