صحیح مسلم حدیث ۲۳۴۳ - پاک کمائی کا صدقہ
پاک کمائی سے صدقہ: ایک کھجور بھی بڑی نیکی بن سکتی ہے
صحیح مسلم : ۲۳۴۳
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۳۴۳
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِيَّ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا يَتَصَدَّقُ أَحَدٌ بِتَمْرَةٍ مِنْ كَسْبٍ طَيِّبٍ ، إِلَّا أَخَذَهَا اللَّهُ بِيَمِينِهِ ، فَيُرَبِّيهَا كَمَا يُرَبِّي أَحَدُكُمْ فَلُوَّهُ أَوْ قَلُوصَهُ ، حَتَّى تَكُونَ مِثْلَ الْجَبَلِ أَوْ أَعْظَمَ " ،
ابوہریرہ روایت:
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے وہی مضمون روایت کیا ہے دوسری سند سے مگر اس میں اونٹ کے بچے کی جگہ جوان اونٹنی مذکور ہے۔
صحیح مسلم حدیث ۲۳۴۳ کا خلاصہ
یہ حدیث پاک کمائی سے صدقہ دینے کی بات کو مضبوط کرتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب کوئی شخص پاک کمائی سے ایک کھجور بھی صدقہ کرتا ہے تو اللہ اسے اپنے دائیں ہاتھ سے قبول فرماتا ہے، پھر اسے بڑھاتا ہے۔ حدیث میں بتایا گیا کہ وہ صدقہ اتنا بڑھتا ہے کہ پہاڑ کے برابر، بلکہ اس سے بھی بڑا ہو سکتا ہے۔ یہاں اصل پیغام یہ ہے کہ حلال رزق سے صدقہ دینا بہت قیمتی عمل ہے۔ مال کم ہو تو بھی آدمی نیکی سے پیچھے نہ ہٹے۔ صدقہ کی فضیلت، پاک کمائی، حلال مال اور چھوٹی نیکی کا یہ پیغام دل کو عمل کی طرف مائل کرتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- حلال کمائی سے دیا گیا صدقہ قابل قدر ہے۔
- ایک کھجور جیسی چھوٹی چیز بھی نیکی بن سکتی ہے۔
- صدقہ دیتے وقت پاک کمائی کا خیال رکھنا چاہیے۔
