صحیح مسلم حدیث ۲۳۶۲ - اخلاص کے ساتھ صدقہ کرنے کی برکت

صدقہ قبول ہونے کی حدیث: نیت صاف ہو تو راستہ بن جاتا ہے

صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۳۶۲

حَدَّثَنِي سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنِي حَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " قَالَ رَجُلٌ : لَأَتَصَدَّقَنَّ اللَّيْلَةَ بِصَدَقَةٍ ، فَخَرَجَ بِصَدَقَتِهِ فَوَضَعَهَا فِي يَدِ زَانِيَةٍ ، فَأَصْبَحُوا يَتَحَدَّثُونَ تُصُدِّقَ اللَّيْلَةَ عَلَى زَانِيَةٍ ، قَالَ : اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ عَلَى زَانِيَةٍ لَأَتَصَدَّقَنَّ بِصَدَقَةٍ ، فَخَرَجَ بِصَدَقَتِهِ فَوَضَعَهَا فِي يَدِ غَنِيٍّ ، فَأَصْبَحُوا يَتَحَدَّثُونَ تُصُدِّقَ عَلَى غَنِيٍّ ، قَالَ : اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ عَلَى غَنِيٍّ لَأَتَصَدَّقَنَّ بِصَدَقَةٍ ، فَخَرَجَ بِصَدَقَتِهِ فَوَضَعَهَا فِي يَدِ سَارِقٍ ، فَأَصْبَحُوا يَتَحَدَّثُونَ تُصُدِّقَ عَلَى سَارِقٍ ، فَقَالَ : اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ عَلَى زَانِيَةٍ وَعَلَى غَنِيٍّ وَعَلَى سَارِقٍ ، فَأُتِيَ فَقِيلَ لَهُ : أَمَّا صَدَقَتُكَ فَقَدْ قُبِلَتْ ، أَمَّا الزَّانِيَةُ فَلَعَلَّهَا تَسْتَعِفُّ بِهَا عَنْ زِنَاهَا ، وَلَعَلَّ الْغَنِيَّ يَعْتَبِرُ فَيُنْفِقُ مِمَّا أَعْطَاهُ اللَّهُ ، وَلَعَلَّ السَّارِقَ يَسْتَعِفُّ بِهَا عَنْ سَرِقَتِهِ " .

ابوہریرہ روایت:

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک شخص نے کہا کہ میں آج کی رات کچھ صدقہ دوں گا اور وہ اپنا صدقہ لے کر نکلا (یہ صدقہ کو چھپانا منظور تھا کہ رات کو لے کر نکلا) اور ایک زناکار عورت کے ہاتھ دے دیا پھر صبح کو لوگ چرچا کرنے لگے کہ آج کی رات ایک شخص زناکار کے ہاتھ صدقہ دے گیا۔اس نے کہا: یا اللہ! تیرے لئے ہیں سب خوبیاں کہ میرا صدقہ زناکار کو جا پڑا اور پھر اس نے کہا کہ آج اور صدقہ دوں گا پھر نکلا اور ایک غنی مالدار کو دے دیا اور لوگ صبح چرچا کرنے لگے کہ آج کوئی مالدار کو صدقہ دے گیا۔ اس نے کہا: یا اللہ! تیرے لئے ہیں سب خوبیاں میرا صدقہ مالدار کے ہاتھ جا پڑا۔ تیسرے دن پھر اس نے کہا کہ میں صدقہ دوں گا اور وہ نکلا اور صدقہ ایک چور کے ہاتھ میں دے دیا اور صبح کو لوگ چرچا کرنے لگے کہ آج کوئی چور کو صدقہ دے گیا۔اس نے کہا: تجھی کو ہیں سب خوبیاں میرا صدقہ زناکار عورت اور مالدار مرد اور چور کے ہاتھ میں جا پڑا پھر اس کے پاس ایک شخص آیا (یعنی فرشتہ یا نبی اس زمانہ کے علیہ السلام) اور اس نے کہا کہ تیرے سب صدقے قبول ہو گئے زناکار عورت کا تو اس نظر سے کہ شاید وہ اس دن زنا سے باز رہی ہو اس لئے کہ پیٹ کے لئے زنا کرتی تھی، رہا غنی اس کا اس لیے قبول ہوا کہ شاید اسے شرم آئے اور عبرت ہو کہ اور لوگ صدقہ دیتے ہیں لاؤ میں بھی دوں اور وہ خرچ کرے اللہ تعالیٰ کے دیئے ہوئے مال سے اور چور کا صدقہ اس لیے کہ شاید وہ اس شب کو چوری نہ کرے۔“ (اس لیے کہ آج کا خرچ تو آ گیا)۔

صحیح مسلم حدیث ۲۳۶۲ کا خلاصہ

اس حدیث کا بنیادی موضوع اخلاص اور صدقہ ہے۔ ایک شخص نے رات کو چھپ کر صدقہ دیا، مگر وہ صدقہ ایک زناکار عورت، پھر ایک مالدار شخص، پھر ایک چور کے ہاتھ جا پہنچا۔ لوگوں نے باتیں کیں، لیکن اس بندے نے ہر بار اللہ کی حمد کی اور صدقہ جاری رکھا۔ آخر اسے بتایا گیا کہ اس کا صدقہ قبول ہو گیا۔ حدیث میں وجہ بھی بیان ہوئی کہ شاید عورت اس صدقہ سے گناہ سے رک جائے، مالدار شخص نصیحت پکڑے اور اللہ کے دیے مال سے خرچ کرے، اور چور اس مال کی وجہ سے چوری سے باز آ جائے۔ اس سے صدقہ کی برکت، اچھی نیت اور اللہ پر حسنِ ظن کا سبق ملتا ہے، مگر حدیث کے الفاظ میں یہ بات امکان کے انداز میں آئی ہے، اس لیے اسے یقینی دعویٰ بنا کر نہیں کہنا چاہیے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • صدقہ دیتے وقت اصل چیز اخلاص اور اللہ کے لیے دینا ہے۔
  • لوگوں کی باتوں کے باوجود نیکی چھوڑنی نہیں چاہیے۔
  • صدقہ بعض اوقات ایسے لوگوں کے لیے بھی بھلائی کا سبب بن سکتا ہے جن سے غلطی ہو رہی ہو۔
  • اللہ کی حمد کرنا بندے کے دل کو سنبھالے رکھتا ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں