صحیح مسلم حدیث ۲۳۶۸ - مالک کے مال سے صدقہ کرنے کا اجر
مالک کے مال سے صدقہ: اجازت اور آدھا آدھا اجر
صحیح مسلم : ۲۳۶۸
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۳۶۸
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ جَمِيعًا ، عَنْ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ ، قَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ : حَدَّثَنَا حَفْصٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ عُمَيْرٍ مَوْلَى آبِي اللَّحْمِ ، قَالَ : كُنْتُ مَمْلُوكًا ، فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَأَتَصَدَّقُ مِنْ مَالِ مَوَالِيَّ بِشَيْءٍ ؟ ، قَالَ : " نَعَمْ وَالْأَجْرُ بَيْنَكُمَا نِصْفَانِ " .
عمیر روایت:
عمیر جو غلام آزاد ہیں آبی اللحم رضی اللہ عنہ کے انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ میں اپنے مالکوں کے مال سے کچھ صدقہ دوں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں اور ثواب اس کا تم دونوں کو ہے آدھا آدھا۔“
صحیح مسلم حدیث ۲۳۶۸ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع مالک کے مال سے صدقہ اور اجر کی تقسیم ہے۔ عمیر، جو آبی اللحم رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام تھے، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ کیا میں اپنے مالکوں کے مال سے کچھ صدقہ دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، اور اس کا اجر تم دونوں کے درمیان آدھا آدھا ہے۔ اس حدیث میں مال خرچ کرنے کے معاملے میں اجازت اور ذمہ داری کا پہلو سامنے آتا ہے۔ یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ جو شخص کسی کے مال کی دیکھ بھال یا خدمت میں ہو، اگر وہ درست صورت میں صدقہ کرے تو وہ بھی اجر میں شامل ہو سکتا ہے۔ حدیث کا پیغام یہ ہے کہ صدقہ صرف دینے والے مال کے مالک تک محدود نہیں، بلکہ صحیح طریقے سے دینے والا بھی اجر پا سکتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- دوسرے کے مال سے صدقہ کرنے میں اجازت اور درست طریقہ ضروری ہے۔
- مالک اور دینے والا دونوں اجر میں شریک ہو سکتے ہیں۔
- صدقہ کا کام امانت کے ساتھ ہونا چاہیے۔
- مال پہنچانے والے کی نیت اور عمل کو بھی اہمیت دی گئی ہے۔
