صحیح مسلم حدیث ۲۳۷۰ - بیوی کا نفل روزہ اور گھر کی اجازت
بیوی کا نفل روزہ اور خرچ: اجازت کی حدیث
صحیح مسلم : ۲۳۷۰
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۳۷۰
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، قَالَ : هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ ، عَنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا ، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَصُمْ الْمَرْأَةُ وَبَعْلُهَا شَاهِدٌ إِلَّا بِإِذْنِهِ ، وَلَا تَأْذَنْ فِي بَيْتِهِ وَهُوَ شَاهِدٌ إِلَّا بِإِذْنِهِ ، وَمَا أَنْفَقَتْ مِنْ كَسْبِهِ مِنْ غَيْرِ أَمْرِهِ ، فَإِنَّ نِصْفَ أَجْرِهِ لَهُ " .
سیدنا ابوہریرہ روایت:
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی اور کئی حدیثیں ذکر کیں ان میں سے یہ بھی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی عورت روزہ (نفل) نہ رکھے اور شوہر اس کا حاضر ہو مگر اس کے حکم سے اور نہ اس کے گھر میں کسی(اپنے محرم کو) آنے دے جب وہ حاضر ہو مگر اس کے حکم سے (پھر جب وہ حاضر نہ ہو تو بدرجہ اولیٰ اس کے بغیر حکم اور رضا کے جو پہلے سے معلوم نہ ہو چکی ہو کسی کو آنے نہ دینا چاہیے) اور جو خرچ کرتی ہے اس کی کمائی سے بغیر اس کے حکم (خاص) کے (اگرچہ حکم عرفی موجود ہے) تو اس میں بھی اس کے مرد کو آدھا ثواب ہے۔“ (یعنی مرد کو کمانے کا عورت کو دینے کا)۔
صحیح مسلم حدیث ۲۳۷۰ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع گھر کے حقوق اور اجازت ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عورت اپنے شوہر کی موجودگی میں اس کی اجازت کے بغیر نفل روزہ نہ رکھے۔ اسی طرح شوہر کی موجودگی میں اس کے گھر میں کسی کو اس کی اجازت کے بغیر داخل ہونے کی اجازت نہ دے۔ پھر فرمایا کہ عورت شوہر کی کمائی میں سے اس کے خاص حکم کے بغیر جو خرچ کرتی ہے، تو اس میں شوہر کے لیے آدھا اجر ہے۔ اس حدیث میں تین باتیں جمع ہیں: نفل روزہ، گھر میں داخلے کی اجازت، اور مال سے خرچ۔ یہ سب گھر کے باہمی حق، اعتماد اور نظم سے متعلق ہیں۔ حدیث کے متن کے مطابق بات شوہر کی موجودگی کے ساتھ بیان ہوئی ہے، اس لیے اسی حد میں اسے سمجھنا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- شوہر کی موجودگی میں نفل روزہ اس کی اجازت سے ہونا چاہیے۔
- گھر میں کسی کو اجازت دینے کا معاملہ باہمی حق سے جڑا ہے۔
- شوہر کی کمائی سے خرچ میں شوہر کے لیے بھی اجر کا حصہ ہے۔
- گھر کے معاملات میں اجازت اور اعتماد اہم ہیں۔
