صحیح مسلم حدیث ۲۳۷۱ - جنت کے دروازوں سے پکارے جانے والے لوگ
جنت کے دروازوں کی حدیث: صدقہ، نماز، جہاد اور روزہ
صحیح مسلم : ۲۳۷۱
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۳۷۱
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى التُّجِيبِيُّ ، واللفظ لأبي الطاهر ، قَالَا : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ أَنْفَقَ زَوْجَيْنِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، نُودِيَ فِي الْجَنَّةِ يَا عَبْدَ اللَّهِ هَذَا خَيْرٌ ، فَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الصَّلَاةِ دُعِيَ مِنْ بَابِ الصَّلَاةِ ، وَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الْجِهَادِ دُعِيَ مِنْ بَابِ الْجِهَادِ ، وَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الصَّدَقَةِ دُعِيَ مِنْ بَابِ الصَّدَقَةِ ، وَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الصِّيَامِ دُعِيَ مِنْ بَابِ الرَّيَّانِ " ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا عَلَى أَحَدٍ يُدْعَى مِنْ تِلْكَ الْأَبْوَابِ مِنْ ضَرُورَةٍ ، فَهَلْ يُدْعَى أَحَدٌ مِنْ تِلْكَ الْأَبْوَابِ كُلِّهَا ؟ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نَعَمْ وَأَرْجُو أَنْ تَكُونَ مِنْهُمْ " ،
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے خرچ کیا ایک جوڑا (یعنی دو پیسے یا دو روپیہ یا دو اشرفی) اپنے مال سے اللہ کی راہ میں پکارا جائے گا جنت میں، اے اللہ کے بندے! یہاں آ تیرے لئے یہاں خیر و خوبی ہے پھر جو نماز پڑھنے والوں میں سے ہو گا وہ نماز کے دروازہ سے پکارا جائے گا۔ اور جو جہاد کرنے والوں میں سے ہو گا وہ جہاد کے دروازہ سے اور جو صدقہ دینے والوں میں سے ہو گا وہ صدقہ کے دروازہ سے اور جو روزہ رکھنے والوں میں سے ہو گا وہ روزے کے دروازے سے۔“سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عرض کی کہ اللہ کے رسول! جو سب دروازوں سے پکارا جائے گا۔ اس کو کیا کام کرنا ضروری ہے؟ کیا کوئی ایسا ہو گا جو سب دروازوں سے پکارا جائے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں اور میں (اللہ کے فضل سے) امید رکھتا ہوں کہ تم انہی میں سے ہو گے۔“
صحیح مسلم حدیث ۲۳۷۱ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع اللہ کی راہ میں خرچ اور نیکی کے دروازے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص اللہ کی راہ میں اپنے مال سے ایک جوڑا خرچ کرے گا، اسے جنت میں پکارا جائے گا کہ اے اللہ کے بندے! یہاں آؤ، یہاں خیر ہے۔ پھر بتایا گیا کہ نماز والوں کو نماز کے دروازے سے، جہاد والوں کو جہاد کے دروازے سے، صدقہ والوں کو صدقہ کے دروازے سے، اور روزہ رکھنے والوں کو ریان کے دروازے سے پکارا جائے گا۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ کیا کوئی سب دروازوں سے بھی پکارا جائے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، اور امید ہے کہ تم ان میں سے ہو گے۔ یہ حدیث مختلف نیکیوں کی قدر کو واضح کرتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اللہ کی راہ میں خرچ کرنا بڑی نیکی ہے۔
- نماز، روزہ، صدقہ اور جہاد ہر ایک نیکی کا الگ مقام ہے۔
- اہلِ صدقہ کو صدقہ کے دروازے سے پکارا جائے گا۔
- سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خیر کی امید ظاہر فرمائی۔
