صحیح مسلم حدیث ۲۳۷۲ - جنت کے دروازوں والی روایت کی دوسری سند
نیکی کے دروازے: جنت کی پکار والی حدیث
صحیح مسلم : ۲۳۷۲
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۳۷۲
حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَالْحَسَنُ الْحُلْوَانِيُّ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ وَهُوَ ابْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ . ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ كِلَاهُمَا ، عَنْ الزُّهْرِيِّ بِإِسْنَادِ يُونُسَ وَمَعْنَى حَدِيثِهِ .
مذکورہ بالا حدیث اس سند سے بھی مروی ہے۔
صحیح مسلم حدیث ۲۳۷۲ کا خلاصہ
اس روایت کا اصل موضوع جنت کے دروازے اور نیک اعمال ہیں۔ متن میں بتایا گیا ہے کہ مذکورہ بالا حدیث ایک اور سند سے بھی مروی ہے، یعنی اصل مضمون وہی ہے کہ اللہ کی راہ میں خرچ کرنے والے کو جنت کی طرف پکارا جائے گا، اور نماز، جہاد، صدقہ اور روزہ والوں کو ان کے عمل کے مناسب دروازے سے بلایا جائے گا۔ یہ بات دل کو نیکی کی طرف متوجہ کرتی ہے کہ انسان اپنی زندگی میں مختلف اچھے کاموں کو اہم سمجھے۔ حدیث میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کا سوال بھی سبق دیتا ہے کہ نیکی میں آگے بڑھنے کی خواہش ایک اچھی خواہش ہے۔ یہاں ہمیں اسی متن تک رہتے ہوئے یہ سمجھنا چاہیے کہ ہر نیک عمل اللہ کے ہاں وزن رکھتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نیک اعمال جنت کی طرف بلانے کا سبب بن سکتے ہیں۔
- صدقہ، نماز اور روزہ ہر ایک کی اپنی فضیلت ہے۔
- نیکی کے کاموں میں آگے بڑھنے کی خواہش اچھی ہے۔
- ایک ہی حدیث مختلف سندوں سے روایت ہو سکتی ہے۔
