صحیح مسلم حدیث ۲۳۸۹ - دین کی سمجھ خیر کی نشانی

دین کی سمجھ اور مال میں برکت کی حدیث

صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۳۸۹

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، أَخْبَرَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ، حَدَّثَنِي رَبِيعَةُ بْنُ يَزِيدَ الدِّمَشْقِيُّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرٍ الْيَحْصَبِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ ، يَقُولُ : إِيَّاكُمْ وَأَحَادِيثَ إِلَّا حَدِيثًا كَانَ فِي عَهْدِ عُمَرَ ، فَإِنَّ عُمَرَ كَانَ يُخِيفُ النَّاسَ فِي اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَهُوَ يَقُولُ : " مَنْ يُرِدِ اللَّهُ بِهِ خَيْرًا يُفَقِّهْهُ فِي الدِّينِ " . (حديث مرفوع) وَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّمَا : " أَنَا خَازِنٌ فَمَنْ أَعْطَيْتُهُ عَنْ طِيبِ نَفْسٍ ، فَيُبَارَكُ لَهُ فِيهِ ، وَمَنْ أَعْطَيْتُهُ عَنْ مَسْأَلَةٍ وَشَرَهٍ ، كَانَ كَالَّذِي يَأْكُلُ وَلَا يَشْبَعُ " .

معاویہ روایت:

بچو تم حدیث کی روایت سے مگر وہ حدیثیں جو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں تھیں، اسی لیے کے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ لوگوں کو ڈرایا کرتے تھے اللہ پاک سے اور سنا ہے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ فرماتے تھے: ”اللہ تعالیٰ جس کی بھلائی چاہتا ہے اس کو دین کی سمجھ دیتا ہے۔“ اور سنا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ فرماتے تھے: ”میں تو فقط خزانچی ہوں پھر جس کو میں دل کی خوشی سے دوں (یعنی بغیر سوال اور لجاجت سائل کے) تو اس میں اس کو برکت ہوتی ہے اور جس کو میں مانگنے سے اور اس کے ستانے سے دوں اس کا حال ایسا ہے کہ گویا کھاتا ہے اور پیٹ نہیں بھرتا۔“

صحیح مسلم حدیث ۲۳۸۹ کا خلاصہ

اس حدیث میں دو باتیں نمایاں ہیں۔ پہلی یہ کہ اللہ تعالیٰ جس کے ساتھ بھلائی چاہتا ہے، اسے دین کی سمجھ عطا کرتا ہے۔ دین کی سمجھ کا مطلب یہ ہے کہ آدمی حلال، حرام، عبادت، معاملہ اور ذمہ داری کو سمجھنے کی کوشش کرے۔ دوسری بات مال کے بارے میں ہے۔ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ میں خزانچی ہوں؛ جسے خوش دلی سے دیا جائے، اس میں برکت ہوتی ہے، اور جو مانگنے اور حرص کے ساتھ لے، اس کی حالت ایسی ہوتی ہے جیسے کھاتا ہے مگر پیٹ نہیں بھرتا۔ اس حدیث میں علم دین، فہم دین، مال کی حرص اور برکت ایک ساتھ بیان ہوئے ہیں۔ انسان کے لیے بہتر راستہ یہ ہے کہ دین سیکھے، سوال میں بے صبری نہ کرے، اور مال کے معاملے میں دل کو قابو میں رکھے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • دین کی سمجھ اللہ کی طرف سے بھلائی کی علامت ہے۔
  • خوش دلی سے ملنے والے مال میں برکت کا ذکر آیا ہے۔
  • حرص اور بار بار سوال انسان کو بے اطمینان رکھ سکتے ہیں۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں