صحیح مسلم حدیث ۲۳۹۰ - سوال میں ہٹ دھرمی نہ کرو
مانگنے میں اصرار نہ کرنے کی حدیث
صحیح مسلم : ۲۳۹۰
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۳۹۰
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، عَنْ أَخِيهِ هَمَّامٍ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تُلْحِفُوا فِي الْمَسْأَلَةِ ، فَوَاللَّهِ لَا يَسْأَلُنِي أَحَدٌ مِنْكُمْ شَيْئًا ، فَتُخْرِجَ لَهُ مَسْأَلَتُهُ مِنِّي شَيْئًا ، وَأَنَا لَهُ كَارِهٌ فَيُبَارَكَ لَهُ فِيمَا أَعْطَيْتُهُ " ،
معاویہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم سوال میں ہٹ نہ کیا کرو اس لیے کہ اللہ کی قسم! مجھ سے جو مانگتا ہے کوئی چیز اور اس کے سوال کے سبب سے میرے پاس سے چیز خرچ ہوتی ہے اور میں اس کو برا جانتا ہوں تو اس میں برکت کیونکر ہو گی۔“
صحیح مسلم حدیث ۲۳۹۰ کا خلاصہ
اس حدیث میں سوال کرنے کے انداز پر تنبیہ ہے۔ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ سوال میں ہٹ نہ کیا کرو۔ پھر فرمایا کہ اگر کوئی شخص مانگتا ہے اور اس کے سوال کی وجہ سے میرے پاس سے کچھ نکلتا ہے، جبکہ میں اسے ناپسند کرتا ہوں، تو اس میں برکت کیسے ہو گی۔ یہاں اصل بات یہ ہے کہ مانگنا اگر مجبوری میں ہو تو الگ بات ہے، مگر اصرار، دباؤ اور بار بار تقاضا برکت کے خلاف رویہ بن سکتا ہے۔ سوال سے بچنے کی حدیث ہمیں خودداری، قناعت اور اچھے طریقے سے ضرورت بیان کرنے کا سبق دیتی ہے۔ مال لینا مقصد نہیں ہونا چاہیے؛ اصل فائدہ وہی ہے جس میں دل کی خوشی اور برکت ہو۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- سوال کرتے وقت اصرار اور دباؤ سے بچنا چاہیے۔
- ناپسندیدگی کے ساتھ ملنے والی چیز میں برکت کا پہلو کمزور بتایا گیا ہے۔
- خودداری اور قناعت انسان کے مالی رویے کو سنوارتی ہیں۔
