صحیح مسلم حدیث ۲۳۹۱ - مانگنے میں ضد سے پرہیز

سوال میں ضد نہ کرنے کی حدیث کی آسان شرح

صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۳۹۱

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ الْمَكِّيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، حَدَّثَنِي وَهْبُ بْنُ مُنَبِّهٍ ، وَدَخَلْتُ عَلَيْهِ فِي دَارِهِ بِصَنْعَاءَ فَأَطْعَمَنِي مِنْ جَوْزَةٍ فِي دَارِهِ ، عَنْ أَخِيهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : فَذَكَرَ مِثْلَهُ .

‏‏‏‏ عمرو بن دینار نے وہب بن منبہ سے روایت کی اور کہا کہ میں ان کے گھر گیا صنعاء میں اور مجھے انہوں نے اپنے احاطہ کے جوز کھلائے اور ان کے بھائی نے روایت کی کہ میں نے سنا سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما سے انہوں نے کہا کہ سنا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے، پھر روایت بیان کی مثل اس کے جو اوپر گزری۔

صحیح مسلم حدیث ۲۳۹۱ کا خلاصہ

یہ روایت پچھلی روایت کے مضمون کو دوسری سند سے بیان کرتی ہے۔ اس میں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کا فرمان نقل ہوا ہے کہ سوال میں اصرار نہ کیا جائے۔ حدیث کا مطلب یہ ہے کہ آدمی اپنی ضرورت کو اس طرح نہ بنائے کہ دینے والے پر دباؤ آ جائے۔ اگر مال کسی کے دل کی خوشی کے بغیر صرف اصرار سے نکلے تو اس میں وہ برکت نہیں جو خوش دلی سے ملنے والی چیز میں ہوتی ہے۔ مانگنے سے بچنے کی حدیث ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ ضرورت ہو تو بھی شائستہ انداز رکھا جائے، اور جہاں ممکن ہو اپنی محنت، قناعت اور صبر کو اختیار کیا جائے۔ یہ بات خاص طور پر مال کے معاملے میں دل کو سنبھالنے کا درس دیتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • ضرورت بیان کرنے میں شائستگی ہونی چاہیے، ضد نہیں۔
  • کسی سے مال لینے میں اس کی رضا اور خوش دلی کا خیال رکھنا چاہیے۔
  • قناعت اور خودداری مانگنے کی عادت کو کم کرتی ہیں۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں