صحیح مسلم حدیث ۲۳۹۲ - اللہ دیتا ہے اور رسول تقسیم کرتے ہیں
اللہ جس کو بھلائی چاہتا ہے اسے دین کی سمجھ دیتا ہے
صحیح مسلم : ۲۳۹۲
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۳۹۲
وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ وَهُوَ يَخْطُبُ يَقُولُ : إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَنْ يُرِدِ اللَّهُ بِهِ خَيْرًا يُفَقِّهْهُ فِي الدِّينِ ، وَإِنَّمَا أَنَا قَاسِمٌ وَيُعْطِي اللَّهُ " .
معاویہ روایت:
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ خطبہ پڑھتے تھے اور روایت کی کہ سنا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ فرماتے تھے: ”جس کی اللہ تعالیٰ بھلائی چاہتا ہے اس کو دین میں سمجھ دیتا ہے اور میں بانٹنے والا ہوں اور دیتا تو اللہ ہے۔“
صحیح مسلم حدیث ۲۳۹۲ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ خطبہ میں رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کا فرمان بیان کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ جس کے ساتھ بھلائی چاہتا ہے اسے دین میں سمجھ دیتا ہے۔ یہ جملہ علم دین کی بڑی قدر بتاتا ہے۔ آدمی صرف معلومات جمع نہ کرے، بلکہ دین کو سمجھ کر عمل کی طرف بڑھے۔ حدیث کا دوسرا حصہ مال کی تقسیم سے متعلق ہے کہ میں بانٹنے والا ہوں اور دیتا اللہ ہے۔ اس سے بندے کو یہ سبق ملتا ہے کہ عطا کا اصل مالک اللہ ہے۔ انسان کسی کے ہاتھ سے کچھ پائے تو بھی دل میں یہ بات رہے کہ دینے والا حقیقی طور پر اللہ ہے۔ دین کی سمجھ اور رزق کے معاملے میں یہ حدیث دل کو سیدھا راستہ دکھاتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- دین کی سمجھ اللہ کی بھلائی میں سے ہے۔
- مال کی تقسیم ظاہری سبب سے ہوتی ہے، مگر اصل عطا اللہ کی ہے۔
- علم دین انسان کو رزق اور اختیار کے بارے میں درست سوچ دیتا ہے۔
