صحیح مسلم حدیث ۲۴۱۵ - دنیا کی حرص
دنیا کی حرص کی حدیث: دو وادیاں بھی کافی نہیں
صحیح مسلم : ۲۴۱۵
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۴۱۵
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَسَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ يَحْيَى : أَخْبَرَنَا ، وَقَالَ الْآخَرَانِ : حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَوْ كَانَ لِابْنِ آدَمَ وَادِيَانِ مِنْ مَالٍ ، لَابْتَغَى وَادِيًا ثَالِثًا ، وَلَا يَمْلَأُ جَوْفَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ ، وَيَتُوبُ اللَّهُ عَلَى مَنْ تَابَ " ،
انس روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر آدمی کے وہ جنگل ہوں مال کے تو بھی وہ تیسرا ڈھونڈتا رہے اور پیٹ نہیں بھرتی آدمی کا مگر مٹی، اور رجوع ہوتا ہے اللہ کا اس پر جو توبہ کرے۔“ (یعنی جو دنیا کی حرص سے باز آئے اسے گنج قناعت فرماتا ہے)۔
صحیح مسلم حدیث ۲۴۱۵ کا خلاصہ
اس حدیث میں مال کی حرص کو بہت واضح مثال سے سمجھایا گیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر آدمی کے پاس مال کی دو وادیاں ہوں تو وہ تیسری تلاش کرے گا، اور ابن آدم کا پیٹ مٹی کے سوا نہیں بھرتا۔ آخر میں فرمایا کہ اللہ اس پر رجوع فرماتا ہے جو توبہ کرے۔ یہ حدیث مال کو چھوڑ دینے کا حکم نہیں دیتی، بلکہ بے قابو خواہش کو پہچاننے کا سبق دیتی ہے۔ انسان کے پاس بہت کچھ ہو تب بھی دل مزید چاہ سکتا ہے۔ اس لیے قناعت کی حدیث، مال کی محبت اور توبہ کا موضوع یہاں ایک ساتھ آتا ہے۔ توبہ کا ذکر امید بھی دیتا ہے کہ اگر انسان اپنی حرص کو پہچان لے اور اللہ کی طرف پلٹ آئے تو اس کے لیے دروازہ کھلا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- زیادہ مال ملنے کے باوجود مزید کی خواہش باقی رہ سکتی ہے۔
- انسانی حرص کا انجام مٹی کے ذکر سے یاد دلایا گیا۔
- توبہ کرنے والے کے لیے اللہ کی طرف رجوع کا ذکر آیا ہے۔
