صحیح مسلم حدیث ۲۴۴ - آیت سجدہ پر سجدہ کرنے کی فضیلت
آیت سجدہ پر سجدہ کرنے کی فضیلت اور شیطان کی ندامت
صحیح مسلم : ۲۴۴
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۴۴
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا قَرَأَ ابْنُ آدَمَ السَّجْدَةَ فَسَجَدَ ، اعْتَزَلَ الشَّيْطَانُ يَبْكِي ، يَقُولُ : يَا وَيْلَهُ ، وَفِي رِوَايَةِ أَبِي كُرَيْبٍ : يَا وَيْلِي ، أُمِرَ ابْنُ آدَمَ بِالسُّجُودِ فَسَجَدَ ، فَلَهُ الْجَنَّةُ ، وَأُمِرْتُ بِالسُّجُودِ فَأَبَيْتُ فَلِي النَّارُ " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب آدمی سجدہ کی آیت پڑھتا ہے پھر سجدہ کرتا ہے تو شیطان روتا ہوا ایک طرف چلا جاتا ہے اور کہتا ہے خرابی ہو اس کی یا میری، آدمی کو سجدہ کا حکم ہوا اور اس نے سجدہ کیا، اب اس کو جنت ملے گی اور مجھے سجدہ کا حکم ہوا، میں نے انکار کیا یا نافرمانی کی میرے لئے جہنم ہے۔“
صحیح مسلم حدیث ۲۴۴ کا خلاصہ
اس حدیث میں آیت سجدہ کی فضیلت بہت صاف انداز میں بیان ہوئی ہے۔ جب آدمی سجدہ کی آیت پڑھتا ہے اور پھر سجدہ کرتا ہے تو وہ اللہ کے حکم کے سامنے جھک جاتا ہے۔ حدیث کے مطابق شیطان روتا ہوا الگ ہو جاتا ہے اور کہتا ہے کہ آدمی کو سجدہ کا حکم دیا گیا، اس نے سجدہ کر لیا، اس کے لیے جنت ہے؛ مجھے سجدہ کا حکم دیا گیا تو میں نے انکار کیا، میرے لیے آگ ہے۔ اس حدیث کا اصل سبق اطاعت ہے۔ بندہ جب اللہ کے حکم پر فوراً جھکتا ہے تو یہ اس کی بندگی کی علامت ہے۔ آیت سجدہ پر سجدہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ غرور شیطان کا راستہ ہے اور فرمانبرداری بندے کا راستہ ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اللہ کے حکم کے سامنے جھکنا بندگی کی پہچان ہے۔
- سجدہ غرور کو توڑتا ہے اور اطاعت سکھاتا ہے۔
- شیطان کی نافرمانی کا سبب حکم سے انکار تھا۔
- آیت سجدہ پڑھنے پر سجدہ کرنا بڑی بامعنی عبادت ہے۔
