صحیح مسلم حدیث ۲۴۵ - سجدہ تلاوت اور نافرمانی کا انجام

سجدہ تلاوت: اطاعت اور نافرمانی کا فرق

صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۴۵

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ ، غَيْرَ أَنَّهُ ، قَالَ : فَعَصَيْتُ فَلِي النَّارُ .

‏‏‏‏ اعمش سے اس سند سے گزشتہ حدیث کے مثل روایت ہے مگر اس میں یہ بات ہے کہ ”شیطان نے کہا کہ میں نے انکار کیا تو میرے لئے آگ ہے۔“

صحیح مسلم حدیث ۲۴۵ کا خلاصہ

یہ روایت پچھلی حدیث ہی کے معنی کو بیان کرتی ہے، مگر اس میں الفاظ کے فرق سے بات مزید واضح ہوتی ہے کہ شیطان نے کہا: میں نے نافرمانی کی، میرے لیے آگ ہے۔ اس چھوٹے سے فرق میں بڑا سبق ہے۔ اللہ کے حکم کے سامنے انسان کا رویہ کیا ہے؟ اگر قرآن کی آیت سجدہ آئے اور بندہ سجدہ کرے تو وہ اپنے عمل سے کہتا ہے کہ میں اللہ کا بندہ ہوں۔ دوسری طرف شیطان نے سجدہ کے حکم سے انکار کیا، اور یہی نافرمانی اس کے لیے ہلاکت کا سبب بنی۔ اس حدیث میں سجدہ تلاوت کا ذکر صرف ایک عمل کے طور پر نہیں، بلکہ اطاعت، عاجزی اور حکم ماننے کی تربیت کے طور پر آیا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • اللہ کے حکم کو ماننا بندے کی کامیابی کا راستہ ہے۔
  • نافرمانی انسان کو شیطان کے راستے کے قریب کرتی ہے۔
  • سجدہ عاجزی اور بندگی کا عملی اظہار ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں