صحیح مسلم حدیث ۲۴۶ - نماز چھوڑنے کی سخت وعید

نماز چھوڑنے کی حدیث: ایمان والے کے لیے سخت تنبیہ

صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۴۶

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ كلاهما ، عَنْ جَرِيرٍ ، قَالَ يَحْيَى : أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ جَابِرًا ، يَقُولُ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِنَّ بَيْنَ الرَّجُلِ ، وَبَيْنَ الشِّرْكِ وَالْكُفْرِ ، تَرْكَ الصَّلَاةِ " .

جابر روایت:

میں نے سنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”آدمی اور شرک اور کفر کے بیچ میں نماز کا ترک ہے۔“

صحیح مسلم حدیث ۲۴۶ کا خلاصہ

اس حدیث میں نماز کی اہمیت بہت سخت الفاظ میں بیان ہوئی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آدمی اور شرک و کفر کے درمیان نماز کا ترک ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ نماز معمولی عمل نہیں جسے آسانی سے چھوڑ دیا جائے۔ نماز بندے کے دین کی پہچان ہے، اللہ سے رابطہ ہے اور روزانہ کی بندگی کا سب سے نمایاں عمل ہے۔ حدیث کا مقصد مسلمان کو ڈرانا اور جگانا ہے کہ نماز کو ہلکا نہ سمجھے۔ یہاں کسی خاص شخص پر حکم لگانے کی بات نہیں کی جا رہی، بلکہ نماز چھوڑنے کے خطرے کی بات ہے۔ جو شخص اس حدیث کو پڑھے اسے چاہیے کہ اپنی نماز کا حال دیکھے، کوتاہی ہو تو فوراً سنبھلے اور نماز کو زندگی کا لازمی حصہ بنائے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نماز دین کا بہت اہم عمل ہے، اسے معمولی نہ سمجھا جائے۔
  • نماز چھوڑنے پر حدیث میں سخت تنبیہ آئی ہے۔
  • مسلمان کو اپنی نماز کے معاملے میں سنجیدہ ہونا چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں