صحیح مسلم حدیث ۲۴۷ - ترک نماز اور ایمان کی حفاظت
ترک نماز: ایمان کے لیے خطرناک غفلت
صحیح مسلم : ۲۴۷
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۴۷
حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ ، حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " بَيْنَ الرَّجُلِ ، وَبَيْنَ الشِّرْكِ وَالْكُفْرِ ، تَرْكُ الصَّلَاةِ " .
جابر بن عبداللہ روایت:
میں نے سنا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ فرما رہے تھے: ” بے شک بندے اور شرک اور کفر کے درمیان فرق نماز چھوڑ دیتا ہے۔ “
صحیح مسلم حدیث ۲۴۷ کا خلاصہ
اس روایت میں سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: بندے اور شرک و کفر کے درمیان نماز چھوڑنا ہے۔ یہ الفاظ مسلمان کے دل کو جھنجھوڑنے کے لیے کافی ہیں۔ نماز صرف عادت نہیں، اللہ کے سامنے حاضری ہے۔ جب بندہ نماز چھوڑتا ہے تو وہ اپنے دین کے سب سے ظاہر عمل میں کمزوری دکھاتا ہے۔ حدیث میں نماز چھوڑنے کے خطرے کو صاف بیان کیا گیا ہے، اس لیے اسے معمولی سستی سمجھ کر نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ جو شخص نماز میں کمزور ہے، اسے مایوس ہونے کے بجائے واپس آنا چاہیے، وقت پر نماز کی کوشش کرنی چاہیے اور اللہ سے مدد مانگنی چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نماز ایمان والے کی زندگی میں بنیادی مقام رکھتی ہے۔
- نماز چھوڑنا بہت سنگین غفلت ہے۔
- کوتاہی ہو جائے تو نماز کی طرف واپس آنا چاہیے۔
