صحیح مسلم حدیث ۲۴۸ - افضل اعمال: ایمان، جہاد اور حج مبرور
افضل اعمال کی حدیث: ایمان، جہاد اور حج مبرور
صحیح مسلم : ۲۴۸
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۴۸
وحَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ . ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ زِيَادٍ ، أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَيُّ الأَعْمَالِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ : إِيمَانٌ بِاللَّهِ ، قَالَ : ثُمَّ مَاذَا ؟ قَالَ : الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، قَالَ : ثُمَّ مَاذَا ؟ قَالَ : حَجٌّ مَبْرُورٌ " ، وَفِي رِوَايَةِ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ قَالَ : إِيمَانٌ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: کون سا کام افضل ہے؟ (یعنی سب سے بڑھ کر) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اللہ پر ایمان لانا۔ “ پھر پوچھا گیا: اس کے بعد کیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جہاد فی سبیل اللہ۔“ پھر پوچھا گیا: اس کے بعد کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حج مبرور“ ایک روایت میں یہ لفظ ہیں کہ ”اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانا۔“
صحیح مسلم حدیث ۲۴۸ کا خلاصہ
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ کون سا عمل افضل ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ پر ایمان لانا۔ پھر پوچھا گیا: اس کے بعد کیا؟ فرمایا: جہاد فی سبیل اللہ۔ پھر پوچھا گیا: اس کے بعد کیا؟ فرمایا: حج مبرور۔ ایک روایت میں اللہ اور اس کے رسول پر ایمان کے الفاظ بھی آئے ہیں۔ اس حدیث کا اصل پیغام یہ ہے کہ دین کی بنیاد ایمان ہے۔ ایمان کے بعد بندہ اللہ کے راستے میں محنت اور قربانی کے لیے تیار ہوتا ہے، اور حج مبرور بھی عظیم عمل ہے۔ یہاں اعمال کی فضیلت سوال کے جواب میں بتائی گئی ہے، اس لیے ہر مسلمان کو پہلے اپنے ایمان کو درست رکھنا، پھر اپنی استطاعت کے مطابق نیک عمل کرنا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ایمان نیک اعمال کی بنیاد ہے۔
- اللہ کی راہ میں کوشش اور قربانی کا بڑا مقام ہے۔
- حج مبرور افضل اعمال میں سے ہے۔
