صحیح مسلم حدیث ۲۴۴۳ - غنیمت کی تقسیم اور حکمت

غنیمت کی تقسیم کی حدیث: حنین کے مال میں نبی صلى الله عليه وسلم کی حکمت

صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۴۴۳

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ الْمَكِّيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، قَالَ : أَعْطَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَا سُفْيَانَ بْنَ حَرْبٍ ، وَصَفْوَانَ بْنَ أُمَيَّةَ ، وَعُيَيْنَةَ بْنَ حِصْنٍ ، وَالْأَقْرَعَ بْنَ حَابِسٍ ، كُلَّ إِنْسَانٍ مِنْهُمْ مِائَةً مِنَ الْإِبِلِ ، وَأَعْطَى عَبَّاسَ بْنَ مِرْدَاسٍ دُونَ ذَلِكَ ، فَقَالَ عَبَّاسُ بْنُ مِرْدَاسٍ : أنجْعَلُ نَهْبِي وَنَهْبَ الْعُبَيْدِ بَيْنَ عُيَيْنَةَ وَالْأَقْرَعِ فَمَا كَانَ بَدْرٌ وَلَا حَابِسٌ يَفُوقَانِ مِرْدَاسَ فِي الْمَجْمَعِ وَمَا كُنْتُ دُونَ امْرِئٍ مِنْهُمَا وَمَنْ تَخْفِضْ الْيَوْمَ لَا يُرْفَعِ ، قَالَ : فَأَتَمَّ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِائَةً ،

رافع بن خدیج روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوسفیان اور صفوان اور عیینہ اور اقرع ان سب کو سو سو اونٹ دئیے اور عباس بن مرداس کو کچھ کم دئیے تو عباس نے یہ اشعار کہے۔ جو اوپر مذکور ہوئے تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے سو اونٹ پورے کردئیے۔ ترجمہ اشعار: آپ میرا اور میرے گھوڑے کا حصہ جس کا نام عبید تھا عینیہ اور اقراع کے بیچ میں مقرر فرماتے ہیں حالانکہ عیینہ اور اقرع دونوں مرداس سے یعنی مجھ سے کسی مجمع میں بڑھ نہیں سکتے اور میں ان دونوں سے کچھ کم نہیں ہوں اور آج جس کی بات نیچے ہو گئی وہ پھر اوپر نہ ہوئی۔ تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سو اونٹ پورے کر دئیے۔

صحیح مسلم حدیث ۲۴۴۳ کا خلاصہ

یہ حدیث غنیمت کی تقسیم کے بارے میں ہے۔ سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے ابوسفیان، صفوان، عیینہ اور اقرع کو سو سو اونٹ دیے، جبکہ عباس بن مرداس کو اس سے کم دیا گیا۔ عباس بن مرداس نے اشعار کے ذریعے اپنی بات پیش کی اور اپنے حصے کا ذکر کیا۔ پھر رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے ان کے لیے سو اونٹ پورے فرما دیے۔ اس روایت میں اصل بات حنین کے مال غنیمت کی تقسیم ہے، جہاں مختلف لوگوں کو ان کے حالات کے مطابق دیا گیا۔ حدیث سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اگر کسی کو اپنے حصے کے بارے میں بات رکھنی ہو تو وہ بات سامنے آئی، اور رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے اسے سنا۔ اس واقعے کو غنیمت کی تقسیم، حنین کا مال، اور سرداران عرب کو عطا کے موضوع سے تلاش کیا جاتا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • مال غنیمت کی تقسیم رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے فیصلے کے تحت ہوئی۔
  • بعض افراد کو سو سو اونٹ دیے گئے، جیسا کہ روایت میں نام آتے ہیں۔
  • عباس بن مرداس کی بات سامنے آنے کے بعد ان کا حصہ پورا کیا گیا۔
  • حدیث میں تقسیم کے ایک خاص واقعے کی تفصیل بیان ہوئی ہے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں