صحیح مسلم حدیث ۲۴۵۷ - پھوٹ کے زمانے میں نکلنے والی قوم

خوارج کی حدیث: پھوٹ کے وقت نکلنے والی قوم کی نشانی

صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۴۵۷

وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَ قَوْمًا ، يَكُونُونَ فِي أُمَّتِهِ يَخْرُجُونَ فِي فُرْقَةٍ مِنَ النَّاسِ سِيمَاهُمُ التَّحَالُقُ ، قَالَ : " هُمْ شَرُّ الْخَلْقِ أَوْ مِنْ أَشَرِّ الْخَلْقِ ، يَقْتُلُهُمْ أَدْنَى الطَّائِفَتَيْنِ إِلَى الْحَقِّ " ، قَالَ : فَضَرَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَهُمْ مَثَلًا ، أَوَ قَالَ : قَوْلًا الرَّجُلُ يَرْمِي الرَّمِيَّةَ ، أَوَ قَالَ الْغَرَضَ فَيَنْظُرُ فِي النَّصْلِ فَلَا يَرَى بَصِيرَةً ، وَيَنْظُرُ فِي النَّضِيِّ فَلَا يَرَى بَصِيرَةً ، وَيَنْظُرُ فِي الْفُوقِ فَلَا يَرَى بَصِيرَةً ، قَالَ : قَالَ أَبُو سَعِيدٍ : وَأَنْتُمْ قَتَلْتُمُوهُمْ يَا أَهْلَ الْعِرَاقِ .

ابو سعید خدری روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک قوم کا ذکر کیا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں ہو گی اور وہ لوگ نکلیں گے جبکہ لوگوں میں پھوٹ ہو گی اور نشانی ان کی سر منڈانا ہو گی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کہ وہ بدترین خلق ہیں قتل کریں گے ان کو وہ لوگ دونوں گروہوں میں سے جو نزدیک ہوں گے حق کے۔“ (اور وہ گروہ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کا تھا) اور ان کی ایک مثال آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمائی یا ایک بات کہی ”کہ آدمی جب تیر مارتا ہے شکار کو یا فرمایا: نشانہ کو اور نظر کرتا ہے بھال کو تو اس میں کچھ اثر نہیں دیکھتا اور نظر کرتا ہے تیر کی لکڑی میں تو کچھ اثر نہیں دیکھتا اور نظر کرتا ہے تیر کی لکڑی میں چٹکی میں رہتا ہے تو کچھ اثر نہیں پاتا ہے۔“سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہا: اے عراق والو! تم ہی نے تو ان کو قتل کیا ہے (یعنی سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے ساتھ ہو کر)۔

صحیح مسلم حدیث ۲۴۵۷ کا خلاصہ

اس حدیث میں نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے ایک ایسی قوم کا ذکر فرمایا جو آپ صلى الله عليه وسلم کی امت میں لوگوں کی پھوٹ کے وقت نکلے گی۔ ان کی نشانی سر منڈانا بیان ہوئی۔ روایت میں سخت الفاظ آئے کہ وہ بدترین خلق ہیں یا بدترین خلق میں سے ہیں، اور انہیں دونوں گروہوں میں سے وہ گروہ قتل کرے گا جو حق کے زیادہ قریب ہو گا۔ پھر نبی صلى الله عليه وسلم نے ان کی مثال تیر کے ذریعے سمجھائی: آدمی تیر مارتا ہے، پھر تیر کے پھال، لکڑی اور آخری حصے کو دیکھتا ہے، مگر خون کا اثر نہیں پاتا۔ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے آخر میں عراق والوں سے فرمایا کہ تم نے انہیں قتل کیا۔ اس روایت کا موضوع خوارج کی علامات، امت میں اختلاف کا وقت، اور حق کے زیادہ قریب گروہ کا ذکر ہے۔ ہمیں اس متن سے اتنا ہی لینا چاہیے جتنا روایت نے بیان کیا ہے، اور الفاظ کو بڑھا کر عام لوگوں پر لگانے میں جلدی نہیں کرنی چاہیے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • حدیث میں ایک قوم کے نکلنے کا وقت لوگوں کی پھوٹ کے ساتھ بیان ہوا۔
  • ان کی ایک نشانی سر منڈانا بتائی گئی۔
  • دونوں گروہوں میں حق کے زیادہ قریب گروہ کا ذکر آیا ہے۔
  • نبی صلى الله عليه وسلم نے تیر کی مثال سے ان کے دین سے نکلنے کو سمجھایا۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں