صحیح مسلم حدیث ۲۴۵۸ - مسلمانوں کی پھوٹ اور مارقہ
مارقہ کی حدیث: مسلمانوں کی پھوٹ کے وقت نکلنے والا گروہ
صحیح مسلم : ۲۴۵۸
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۴۵۸
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ وَهُوَ ابْنُ الْفَضْلِ الْحُدَّانِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَمْرُقُ مَارِقَةٌ عِنْدَ فُرْقَةٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ ، يَقْتُلُهَا أَوْلَى الطَّائِفَتَيْنِ بِالْحَقِّ " .
ابو سعید خدری روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک فرقہ جدا ہو جائے گا جب مسلمانوں میں پھوٹ ہو گی اور اس کو قتل کرے گا وہ گروہ جو قریب ہو گا دونوں گروہوں میں حق سے۔“
صحیح مسلم حدیث ۲۴۵۸ کا خلاصہ
یہ حدیث مختصر ہے مگر مضمون بہت واضح ہے۔ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ مسلمانوں میں پھوٹ کے وقت ایک مارقہ، یعنی دین سے نکل جانے والا گروہ، الگ ہو گا۔ اسے دونوں گروہوں میں سے وہ گروہ قتل کرے گا جو حق کے زیادہ قریب ہو گا۔ اس روایت میں تفصیل کم ہے، اس لیے اس کی وضاحت بھی متن کے اندر رہ کر ہی کرنی چاہیے۔ یہاں اصل بات یہ ہے کہ امت میں اختلاف کے وقت ایک تیسرا الگ رخ سامنے آئے گا، اور نبی صلى الله عليه وسلم نے اس کے انجام کی خبر دی۔ یہ خوارج، مارقہ، اور فتنے کے وقت حق کے قریب گروہ سے متعلق حدیث ہے۔ اس سے عام زندگی میں کم از کم اتنی سمجھ آتی ہے کہ اختلاف کے زمانے میں جلد بازی، سختی اور دین سے نکلانے والی سوچ سے بچنا چاہیے، مگر کسی خاص شخص یا گروہ پر حکم لگانا علم والوں کا کام ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- حدیث میں مسلمانوں کی پھوٹ کے وقت ایک الگ گروہ کا ذکر ہے۔
- اس گروہ کو مارقہ کہا گیا، یعنی راہ سے نکل جانے والے۔
- انہیں حق کے زیادہ قریب گروہ کے ہاتھوں قتل ہونے کی خبر دی گئی۔
- مختصر روایت سے صرف وہی بات لینی چاہیے جو متن میں آئی ہے۔
