صحیح مسلم حدیث ۲۴۵۹ - امت کے دو گروہ اور تیسرا فرقہ

امت کے دو گروہوں کی حدیث: بیچ سے نکلنے والا فرقہ

صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۴۵۹

حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ قُتَيْبَةُ : حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَكُونُ فِي أُمَّتِي فِرْقَتَانِ ، فَتَخْرُجُ مِنْ بَيْنِهِمَا مَارِقَةٌ ، يَلِي قَتْلَهُمْ أَوْلَاهُمْ بِالْحَقِّ " .

ابو سعید خدری روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت میں دو گروہ ہو جائیں گے اور ان دونوں میں ایک فرقہ جدا ہو جائے گا اور ان کو قتل کرے گا وہ گروہ جو حق سے قریب ہو گا۔“

صحیح مسلم حدیث ۲۴۵۹ کا خلاصہ

اس روایت میں رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ میری امت میں دو گروہ ہو جائیں گے، پھر ان دونوں کے درمیان سے ایک مارقہ فرقہ نکلے گا۔ اس فرقے کے قتل کا معاملہ اس گروہ کے ہاتھ ہو گا جو حق کے زیادہ قریب ہو گا۔ یہ حدیث الفاظ کے لحاظ سے مختصر ہے، مگر فتنہ، اختلاف اور خوارج کے موضوع میں بہت اہم ہے۔ اس میں کسی لمبی تفصیل، ناموں یا تاریخ کا ذکر نہیں، اس لیے اس کی شرح میں بھی دعوے بڑھانے سے بچنا چاہیے۔ اصل پیغام یہ ہے کہ امت کے اندر اختلاف کے دوران ایک ایسا رخ بھی پیدا ہو سکتا ہے جو دونوں سے الگ ہو کر دین سے نکلنے کی طرف چلا جائے۔ حدیث کا جملہ ہمیں یہ بھی سکھاتا ہے کہ ہر اختلاف میں نعرے نہیں بلکہ حق کے قریب ہونے کی پہچان اہم ہے۔ اس موضوع کو لوگ خوارج کی حدیث، مارقہ کی حدیث، اور امت کے دو گروہ کے عنوان سے تلاش کرتے ہیں۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نبی صلى الله عليه وسلم نے امت میں دو گروہوں کے ہونے کی خبر دی۔
  • ان کے بیچ سے ایک الگ مارقہ فرقہ نکلنے کا ذکر آیا۔
  • حق کے زیادہ قریب گروہ کے ہاتھ اس کا قتل بیان ہوا۔
  • روایت مختصر ہے، اس لیے غیر ضروری تفصیل شامل نہیں کرنی چاہیے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں