صحیح مسلم حدیث ۲۴۸۳ - صدقہ اپنی جگہ پہنچ جائے تو ہدیہ بن سکتا ہے
صدقہ اور ہدیہ میں فرق: اپنی جگہ پہنچ جانے کا حکم
صحیح مسلم : ۲۴۸۳
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۴۸۳
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّ عُبَيْدَ بْنَ السَّبَّاقِ ، قَالَ : إِنَّ جُوَيْرِيَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهَا ، فَقَالَ : " هَلْ مِنْ طَعَامٍ ؟ ، قَالَتْ : لَا وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا عِنْدَنَا طَعَامٌ ، إِلَّا عَظْمٌ مِنْ شَاةٍ أُعْطِيَتْهُ مَوْلَاتِي مِنَ الصَّدَقَةِ ، فَقَالَ : قَرِّبِيهِ فَقَدْ بَلَغَتْ مَحِلَّهَا " ،
جویریہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں آئے اور فرمایا: ”کچھ کھانا ہے؟“ تو انہوں نے عرض کی کہ نہیں۔ قسم ہے اللہ کی! اے اللہ کے رسول! ہمارے پاس کچھ کھانا نہیں ہے مگر چند ہڈیاں بکری کو جو میری آزاد لونڈی کو صدقہ میں ملی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لاؤ اس لیے کہ صدقہ تو اپنی جگہ تک پہنچ گیا۔“
صحیح مسلم حدیث ۲۴۸۳ کا خلاصہ
اس حدیث کا موضوع صدقہ اور ہدیہ میں فرق ہے۔ سیدہ جویریہ رضی اللہ عنہا کے گھر رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے کھانے کے بارے میں پوچھا۔ انہوں نے بتایا کہ گھر میں کھانا نہیں، صرف بکری کی چند ہڈیاں ہیں جو ان کی آزاد لونڈی کو صدقہ میں ملی تھیں۔ نبی صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ اسے لے آؤ، کیونکہ صدقہ اپنی جگہ تک پہنچ چکا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جب صدقہ اصل مستحق کو دیا جا چکا، تو وہ اس کی ملکیت بن گیا۔ پھر اگر وہ کسی کو کھلائے یا دے تو وہ پہلے جیسا صدقہ نہیں رہتا۔ اس حدیث میں آسانی بھی ہے اور احتیاط بھی۔ صدقہ کا حکم اپنی جگہ ہے، مگر مستحق کے ہاتھ میں آنے کے بعد اس کے تصرف کو الگ دیکھا گیا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- صدقہ مستحق کے پاس پہنچنے کے بعد اس کی ملکیت ہو جاتا ہے۔
- کسی چیز کا حکم اس کے دینے والے اور لینے والے کے بدلنے سے بدل سکتا ہے۔
- نبی صلى الله عليه وسلم کھانے کے بارے میں پوچھ کر حکم واضح کرتے تھے۔
- دین میں احتیاط کے ساتھ آسانی بھی موجود ہے۔
