صحیح مسلم حدیث ۲۴۸۴ - صدقہ پہنچنے کے بعد حکم بدلنے کا اصول
صدقہ اپنی جگہ پہنچ گیا: آسان فہم حدیث
صحیح مسلم : ۲۴۸۴
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۴۸۴
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَإسحاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ جَمِيعًا ، عَنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ .
زہری روایت:
زہری سے ان اسناد کے ساتھ گزشتہ حدیث کی طرح روایت مروی ہے۔
صحیح مسلم حدیث ۲۴۸۴ کا خلاصہ
یہ حدیث پچھلی روایت ہی کے معنی میں ہے، اس لیے اس کا اصل سبق بھی صدقہ اور ہدیہ کے فرق سے جڑا ہے۔ بات یہ ہے کہ جو چیز صدقہ کے طور پر کسی مستحق کو دی جائے، وہ اس کے قبضے میں آنے کے بعد اس کی اپنی چیز بن جاتی ہے۔ پھر اگر وہ اسے نبی صلى الله عليه وسلم کے گھر بھیج دے یا کسی اور کو دے دے تو اس پر وہی پہلا حکم نہیں لگایا گیا۔ اسی وجہ سے آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ صدقہ اپنی جگہ پہنچ گیا۔ یہ جملہ بہت مختصر ہے مگر عام زندگی میں سمجھنے کے لیے بڑا آسان ہے۔ کسی مال کا حکم صرف نام سے نہیں، بلکہ اس کے پہنچنے، مالک بننے اور آگے دینے کے طریقے سے بھی سمجھا جاتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- صدقہ کا اصل حق مستحق تک پہنچانا ہے۔
- مستحق مالک بننے کے بعد اپنی چیز آگے دے سکتا ہے۔
- حکم سمجھنے میں چیز کے سفر کو بھی دیکھا جاتا ہے۔
- حدیث مختصر الفاظ میں ایک عملی مسئلہ سمجھاتی ہے۔
