صحیح مسلم حدیث ۲۴۸۶ - صدقہ سے ہدیہ بننے کا صاف اصول
صدقہ ان کے لیے، ہدیہ ہمارے لیے: آسان شرح
صحیح مسلم : ۲۴۸۶
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۴۸۶
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا شُعْبَةُ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ الْحَكَمِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ وَأُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلَحْمِ بَقَرٍ ، فَقِيلَ : هَذَا مَا تُصُدِّقَ بِهِ عَلَى بَرِيرَةَ ، فَقَالَ : " هُوَ لَهَا صَدَقَةٌ وَلَنَا هَدِيَّةٌ " .
عائشہ روایت:
کچھ گائے کا گوشت لائے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اور کسی نے کہا: یہ گوشت صدقہ کا ہے جو سیدہ بریرہ رضی اللہ عنہا کو ملا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان پر صدقہ ہے اور ہم کو ہدیہ۔“
صحیح مسلم حدیث ۲۴۸۶ کا خلاصہ
اس روایت میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی صلى الله عليه وسلم کے پاس گائے کا گوشت لایا گیا۔ بتایا گیا کہ یہ وہ گوشت ہے جو بریرہ رضی اللہ عنہا کو صدقہ میں ملا تھا۔ نبی صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ وہ ان پر صدقہ ہے اور ہمارے لیے ہدیہ۔ اس حدیث کا اصل نکتہ یہی ہے کہ صدقہ جس شخص کے لیے دیا گیا تھا، جب اسے مل گیا تو وہ اس کی ملکیت ہو گیا۔ پھر اس کی طرف سے آنے والی چیز ہدیہ کہلائی۔ اس سے صدقہ اور ہدیہ میں فرق سمجھ آتا ہے۔ حدیث یہ نہیں کہتی کہ ہر حالت میں ہر صدقہ سب کے لیے ہو جائے، بلکہ خاص صورت یہ ہے کہ صدقہ مستحق تک پہنچ چکا تھا اور پھر اس نے آگے دیا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- صدقہ مستحق تک پہنچنے کے بعد اس کی ملکیت ہوتا ہے۔
- ہدیہ دینے والے کی حیثیت سے حکم بدل سکتا ہے۔
- نبی صلى الله عليه وسلم نے سوال اٹھنے پر مختصر مگر واضح جواب دیا۔
- حدیث کو اسی خاص صورت میں سمجھنا چاہیے جو متن میں آئی ہے۔
