صحیح مسلم حدیث ۲۴۸۷ - بریرہ رضی اللہ عنہا کے واقعے سے شرعی سبق

بریرہ رضی اللہ عنہا کا واقعہ: صدقہ سے ہدیہ تک

صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۴۸۷

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : كَانَتْ فِي بَرِيرَةَ ثَلَاثُ قَضِيَّاتٍ ، كَانَ النَّاسُ يَتَصَدَّقُونَ عَلَيْهَا وَتُهْدِي لَنَا ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " هُوَ عَلَيْهَا صَدَقَةٌ وَلَكُمْ هَدِيَّةٌ فَكُلُوهُ " ،

عائشہ روایت:

سیدہ بریرہ رضی اللہ عنہا کے مقدمہ سے تین حکم شرعی ثابت ہوئے لوگ اس کو صدقہ دیتے اور وہ ہم کو ہدیہ دیتی تو ذکر کیا ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ اس پر صدقہ ہے اور تم پر ہدیہ ہے سو تم کھاؤ۔“

صحیح مسلم حدیث ۲۴۸۷ کا خلاصہ

اس حدیث میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بریرہ رضی اللہ عنہا کے معاملے سے تین احکام کا ذکر کیا، اور یہاں ہمارے سامنے صدقہ اور ہدیہ والا پہلو آیا ہے۔ لوگ بریرہ رضی اللہ عنہا کو صدقہ دیتے تھے، پھر وہ نبی صلى الله عليه وسلم کے گھر ہدیہ بھیج دیتیں۔ جب اس کا ذکر رسول اللہ صلى الله عليه وسلم سے کیا گیا تو آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ وہ ان پر صدقہ ہے اور تم پر ہدیہ ہے، اس لیے اسے کھاؤ۔ اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ ایک ہی چیز کا حکم ہر مرحلے میں ایک جیسا نہیں رہتا۔ پہلے وہ صدقہ تھا، کیونکہ بریرہ رضی اللہ عنہا مستحق تھیں۔ پھر جب انہوں نے اپنی طرف سے دیا تو وہ ہدیہ ہو گیا۔ یہ حدیث دین کی عملی سمجھ سکھاتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • صدقہ اور ہدیہ کا فرق دینے والے اور لینے والے کی صورت سے سمجھا جاتا ہے۔
  • مستحق کو ملنے کے بعد چیز اس کی ملکیت ہوتی ہے۔
  • جس مسئلے میں شک ہو اسے نبی صلى الله عليه وسلم کے سامنے پیش کیا گیا۔
  • حکم ملنے کے بعد بلا تردد جائز چیز کھائی جا سکتی ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں