صحیح مسلم حدیث ۲۴۸۸ - بریرہ رضی اللہ عنہا کی روایت کی تائید
بریرہ رضی اللہ عنہا کی حدیث: ہدیہ کا صحیح سمجھنا
صحیح مسلم : ۲۴۸۸
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۴۸۸
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْقَاسِمِ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْقَاسِمَ يُحَدِّثُ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ ذَلِكَ ،
مذکورہ بالا حدیث اس سند سے بھی مروی ہے۔
صحیح مسلم حدیث ۲۴۸۸ کا خلاصہ
یہ حدیث اوپر والی روایت ہی کی طرح ہے۔ اس میں بھی اصل بات یہ ہے کہ بریرہ رضی اللہ عنہا کو لوگ صدقہ دیتے تھے اور وہ نبی صلى الله عليه وسلم کے گھر والوں کو ہدیہ دیتی تھیں۔ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے اس چیز کو ان کے لیے صدقہ اور اہل خانہ کے لیے ہدیہ قرار دیا۔ عام آدمی کے لیے یہ مسئلہ کبھی مشکل لگتا ہے کہ جس چیز کی ابتدا صدقہ سے ہوئی، وہ بعد میں کیسے جائز ہدیہ بن گئی۔ حدیث اس کا جواب دیتی ہے کہ صدقہ پہلے اپنے مستحق تک پہنچ گیا تھا۔ اس کے بعد مستحق کی ملکیت سے جو چیز آگے آئی، وہ نیا معاملہ تھا۔ اس لیے اس حدیث میں صدقہ کے آداب، ہدیہ قبول کرنے کی سنت اور حکم سمجھنے کی سادگی تینوں باتیں ملتی ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ایک ہی مضمون کی متعدد سندیں بات کو مضبوط انداز میں نقل کرتی ہیں۔
- صدقہ مستحق تک پہنچنے کے بعد نیا حکم اختیار کر سکتا ہے۔
- ہدیہ قبول کرنا نبی صلى الله عليه وسلم کے عمل سے ثابت ہے۔
- دینی مسئلہ سمجھنے کے لیے اصل صورت کو نہیں بدلنا چاہیے۔
