صحیح مسلم حدیث ۲۴۸۹ - ہدیہ اور صدقہ کا فرق ایک بار پھر
ہدیہ ہمارے لیے: صدقہ کے حکم کی آسان وضاحت
صحیح مسلم : ۲۴۸۹
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۴۸۹
وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ رَبِيعَةَ ، عَنْ الْقَاسِمِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ ذَلِكَ ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ : " وَهُوَ لَنَا مِنْهَا هَدِيَّةٌ " .
مذکورہ بالا حدیث اس سند سے بھی مروی ہے۔
صحیح مسلم حدیث ۲۴۸۹ کا خلاصہ
یہ روایت بھی اسی مضمون کو بیان کرتی ہے، مگر اس میں الفاظ ہیں کہ وہ ہمارے لیے ان کی طرف سے ہدیہ ہے۔ اس چھوٹے سے فرق سے بات اور صاف ہو جاتی ہے۔ صدقہ پہلے بریرہ رضی اللہ عنہا کو ملا تھا، یعنی وہ اپنی جگہ پہنچ گیا۔ جب انہوں نے اسے نبی صلى الله عليه وسلم کے گھر والوں کو دیا تو اب یہ ان کی طرف سے ہدیہ تھا۔ اس حدیث میں زور اسی بات پر ہے کہ کسی چیز کا حکم اس کے موجودہ مالک اور دینے کی نیت کے لحاظ سے بھی دیکھا جاتا ہے۔ یہاں اپنی طرف سے کوئی نیا قاعدہ نہیں بنایا گیا، بلکہ نبی صلى الله عليه وسلم کے الفاظ ہی سے سمجھ آتا ہے کہ صدقہ اور ہدیہ ہر حالت میں ایک نہیں ہوتے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- الفاظ کے فرق سے مسئلے کی سمجھ مزید واضح ہو سکتی ہے۔
- مستحق کی طرف سے آنے والی چیز ہدیہ ہو سکتی ہے۔
- صدقہ کا مقصد مستحق تک پہنچنے سے پورا ہو گیا۔
- نبی صلى الله عليه وسلم نے کھانے کے معاملے میں احتیاط کے ساتھ آسانی بتائی۔
